عرب لیگ کی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی شدید مخالفت، فرانسیسی صدر نے بھی منصوبے کو مسترد کردیا
عرب لیگ اور چین نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابولغیث نے دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ سے خطاب میں کہا کہ آج غزہ نشانہ ہے کل مقبوضہ مغربی کنارے کی باری ہوگی جو کہ ناقابل قبول ہے۔
احمد ابولغیث کا کہنا تھا کہ عرب دنیا 100 سال سے اس خیال کے مخالف ہے۔ عرب کسی بھی طرح ہتھیار ڈالنے والے نہیں ہیں۔
عرب لیگ نے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے دو ریاستی حل کے بجائے غزہ کے لوگوں پر جبر کے طریقہ رکھا تو مشرق وسطی میں عربوں اور اسرائیل کو شدید تنازع کے نئے چکر میں پھنسا دیں گے۔
نیتن یاہو نے آئی ڈی ایف کو غزہ میں فوج جمع کرنے کا حکم دے دیا
وہیں غزہ کے لوگوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہوئے ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ غزہ فلسطینیوں کا ہے اور فلسطینی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے۔
چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم غزہ کے شہریوں کی جبری بے دخلی کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی صدر نے بھی امریکا کے غزہ پر قبضے کے منصوبے کو مسترد کردیا۔
مودی کو پھر سبکی کا سامنا، فرانسیسی صدر نے سب سے ہاتھ ملاتے ہوئے نظر انداز کردیا
امریکی میڈیا کے مطابق فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ غزہ کے لوگوں اور عرب ممالک کے حقوق کا احترام کریں۔ غزہ کی 20 لاکھ آبادی کو بے گھر نہیں کیا جاسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی آبادی کو نشانہ بنانے کے لیے آپریشن کرنا درست نہیں، غزہ کی تعمیر نو کا یہ مطلب نہیں کہ فلسطینیوں کا احترام نہ کریں۔
فرانسیسی صدر کا مزید کہنا تھا کہ فلسطین تنازع کا واحد حل دو ریاستوں کا قیام ہے۔ غزہ پر امریکی قبضے سے مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔
وہیں امریکی میڈیا نے کہا کہ فرانس نے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بھی بند کردی ہے۔
Comments are closed on this story.