Aaj News

جمعرات, مارچ 27, 2025  
26 Ramadan 1446  

متعدد محاز کھڑے کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار نے یمن جنگ کا پلان صحافی سے شیئر کیا
شائع 2 دن پہلے

یمن پر امریکی حملوں کی منصوبہ بندی سے متعلق خفیہ پیغامات اتفاقیہ طور پر ایک صحافی کو موصول ہو گئے۔

معروف امریکی جریدے ”دی اٹلانٹک“ کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈ برگ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام کی یمن میں حوثیوں کے خلاف حملوں سے متعلق خفیہ گفتگو انہیں اتفاقیہ طور پر موصول ہو گئی۔ اس انکشاف کو امریکی قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

جیفری گولڈ برگ نے پیر کے روز شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا کہ انہیں 11 مارچ کو امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کی جانب سے میسجنگ ایپ ”سگنل“ پر ایک رابطے کی درخواست موصول ہوئی۔ دو دن بعد، انہیں ”حوثی پی سی اسمال گروپ“ نامی چیٹ میں شامل کر لیا گیا، جہاں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور دیگر اعلیٰ حکام حوثیوں کے خلاف حملوں پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔

15 مارچ کو امریکی فوج نے یمن میں مختلف مقامات پر بمباری کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو ہلاک کر دیا ہے۔

والٹز نے بعد میں امریکی میڈیا کو بتایا کہ یہ حملے معمولی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ایک جامع اور مؤثر کارروائی تھی، جس میں حوثیوں کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور ایران کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گولڈ برگ کو شامل کرنے والا پیغام ”اصلی معلوم ہوتا ہے“ اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں کہ یہ غلطی کیسے ہوئی۔

چیٹ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔ گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ انہیں ”جے جی“ کے نام سے شامل کیا گیا، اور غالباً انہیں امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر کی جگہ غلطی سے گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔

گروپ چیٹ میں نائب صدر جے ڈی وینس نے حملے کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے یورپی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور امریکہ کو پہلے عوام کو قائل کرنے کے لیے مزید وقت لینا چاہیے۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جواب دیا کہ ”کسی کو حوثیوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، اس لیے ہمیں صرف یہ بیانیہ اپنانا چاہیے کہ بائیڈن ناکام ہوا اور ایران اس سب کے پیچھے ہے۔“

بالآخر، امریکی صدر کے حکم پر 15 مارچ کو یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ وزیر دفاع نے اسی روز 11:44 بجے گروپ میں حملے کی تفصیلات بھی شیئر کیں، جو بعد میں میڈیا رپورٹس میں شامل ہوئیں۔

یہ انکشاف امریکی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ جیفری گولڈ برگ وہی صحافی ہیں جنہوں نے 2020 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر امریکی فوجیوں کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کے حالیہ انکشاف نے امریکہ کی قومی سلامتی پر ایک نیا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

yemen

President Donald Trump

yemeni houtis

War and Conflicts