Aaj News

اتوار, اپريل 06, 2025  
07 Shawwal 1446  

ٹرمپ کا پلان اُلٹا پڑ گیا، بٹ کوائن سمیت کئی کرپٹو کرنسیز کی قیمتیں زمین پر آگئیں

ماہرین نے وسیع تر کرپٹو ذخیرے کے فیصلے کو ایک غلطی قرار دیا
شائع 04 مارچ 2025 09:08am
تصویر: میٹا اے آئی
تصویر: میٹا اے آئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرپٹو کرنسیوں کے قومی ذخائر بنانے کے منصوبے کے اعلان کے بعد ماہرین کی جانب سے بٹ کوائن کی قیمتوں میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی، لیک یہ پیشگوئی اس وقت غلط ثابت ہوئی جب مارکیٹ میں محتاط رویہ اپنایا گیا اور بٹ کوائن کی قیمت پیر کے روز ابتدائی اضافے کے بعد نیچے آگئی۔

اتوار کے روز ٹرمپ کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر کی گئی پوسٹ کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں جوش و خروش پیدا ہوا، تاہم سرمایہ کار اس منصوبے کی مزید تفصیلات کے منتظر رہے، جس کے باعث مارکیٹ میں عدم استحکام دیکھا گیا۔

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن جمعے کی سطح سے 2.4 فیصد بڑھ کر 86,292 ڈالر تک پہنچی، تاہم اتوار کے مقابلے میں 8 فیصد کم رہی۔

ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کے جنوری میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت بٹ کوائن، ایتھریم، ایکس آر پی، سولانا اور کارڈانو سمیت مختلف ڈیجیٹل کرنسیوں کا قومی ذخیرہ بنایا جائے گا۔ یہ کرپٹو کرنسیاں پہلے کسی سرکاری بیان میں شامل نہیں کی گئی تھیں۔

ٹرمپ کے اعلان نے امریکی اسٹاک مارکیٹ کریش کروادی

کرپٹو مارکیٹ میں گراوٹ

بٹ کوائن کے ساتھ ساتھ دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

ایتھر 4.3 فیصد کمی کے ساتھ 2,127.10 ڈالر پر پہنچ گیا، جبکہ اتوار کے مقابلے میں 16 فیصد نیچے رہا۔

ایکس آر پی اتوار کے مقابلے میں 15 فیصد گر کر 2.48 ڈالر پر آگیا، تاہم جمعے کے مقابلے میں 25 فیصد بڑھا۔

سولانا 16 فیصد کمی کے ساتھ 148.89 ڈالر پر آگیا، تاہم جمعے کے مقابلے میں 1.6 فیصد اوپر رہا۔

کارڈانو 19 فیصد کمی کے ساتھ 0.8940 ڈالر تک گر گیا اور جمعے کے مقابلے میں 3 فیصد کم رہا۔

ماہرین کی رائے

کرپٹو انویسٹر انتھونی پومپلیانو، جو پروفیشنل کیپیٹل مینجمنٹ کے بانی اور سی ای او ہیں، نے کرپٹو ذخائر کے منصوبے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے سرمایہ کاروں کو لکھے گئے خط میں کہا، ’اگرچہ سولانا ہماری دوسری سب سے بڑی کرپٹو ہولڈنگ ہے، لیکن میں اس وسیع تر کرپٹو ذخیرے کے فیصلے کو ایک غلطی سمجھتا ہوں، جو مستقبل میں نقصان دہ ثابت ہوگی۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پالیسی ’چند مخصوص افراد اور کرپٹو تخلیق کاروں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنے گی، جبکہ اس کا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان پر پڑے گا۔‘

کرپٹو ایکسچینج ”جیمینائی“ کے بانی کیمرون اور ٹائلر وینکلواس نے بھی اس منصوبے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ریزرو اثاثہ صرف بٹ کوائن ہی موزوں ہے، جبکہ دیگر کرپٹو کرنسیوں کے انتخاب پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔

بٹ کوائن کی قیمت میں کمی

فروری میں بٹ کوائن کی قیمت میں 17 فیصد سے زائد کمی ہوئی، جو جون 2022 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ گراوٹ ہے۔ جنوری میں 105,000 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے بعد بٹ کوائن اپنی قیمت کا ایک تہائی کھو چکا ہے۔

تحلیل کار کیتلین بروکس نے کہا، ’یہ ایک دلچسپ تضاد ہے کہ ایک کرنسی جو حکومتی مداخلت سے آزاد اور غیر مرکزیت پر مبنی بنائی گئی تھی، اب اپنی قسمت کے لیے امریکی حکومت پر انحصار کر رہی ہے۔‘

حکومتی منصوبہ اور خدشات

مارکیٹ ماہر ٹونی سائیکامور کے مطابق، ٹرمپ کے اعلان نے کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ کرپٹو خریداری کے لیے فنڈز امریکی ٹیکس دہندگان سے لیے جا سکتے ہیں، یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے ضبط شدہ کرپٹو کرنسیوں سے بھی ممکن ہے، جو مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے بجائے ایک اکاؤنٹ سے دوسرے میں منتقلی کے مترادف ہوگا۔

ٹرمپ کے حامیوں کو امید تھی کہ وہ صدر بننے کے بعد کرپٹو ریگولیشن میں نرمی کریں گے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں۔

bitcoin

Ethereum

President Donald Trump

Solana

Cardano

Crypto Crash

Bitcoin Crash