Aaj News

بدھ, مارچ 26, 2025  
25 Ramadan 1446  

مصطفی عامر قتل کیس میں مارشا کے بعد دوسری لڑکی کون ہے؟

مبینہ طور پر لڑکی ارمغان اور مصطفیٰ کی دوست ہے

کراچی میں مصطفی قتل کیس میں مارشا کے بعد دوسری لڑکی انجلینا کون ہے اور کیا پولیس نے اس سے تفتیش کی ہے۔ یہ وہی لڑکی ہے جسے بقول شیراز ارمغان نے تشدد کر کے زخمی کیا تھا۔

کراچی کے علاقے ڈیفینس میں مصطفی عامراغوا اورقتل کیس میں مارشا کے بعد ایک اورلڑکی بھی سامنے آگئی۔ مبینہ طور پر لڑکی انجلینا ہے جو ارمغان اور مصطفیٰ کی دوست ہے۔

تحقیقاتی اداروں کو ملنے والی لڑکی کی تصویر مبینہ طور پر انجلینا کی ہے، ارمغان کے گھر سے ملنے والے تیسرے شخص کا خون مبینہ طور پر لڑکی کا ہوسکتا ہے۔

لڑکی کے ملنے کے بعد اس کے ڈی این اے سے تصدیق ہوسکے گی، لڑکی کی تصویر کے بارے میں سرکاری سطح پر کسی قسم کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

مصطفیٰ عامرکے قتل میں ارمغان کے گھر سے ملنے والے تیسرے شخص کا خون مبینہ طورپرلڑکی کاہوسکتا ہے۔ خون ڈی این اے کے لیے بھیج دیا گیا۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈی این اے کی فارنزک رپورٹ میں مزید واضح ہو سکے گا۔

مرکزی ملزم ارمغان کی میڈیکل رپورٹ

کراچی میں مصطفیٰ عامر اغواء اور قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ملزم ارمغان کے 10 فروری کو ہونے والے میڈیکل کی رپورٹ آج نیوز نے حاصل کر لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ملزم کو 3 بج کر 55 منٹ پر میڈیکو لیگل کے لیے جناح اسپتال لایا گیا، جہاں انسپکٹر امیر علی نے اسے ہتھکڑی کے ساتھ پیش کیا۔

میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم ارمغان کی حالت بہتر تھی اور وہ مکمل ہوش و حواس میں تھا، اس کا بلڈ پریشر بھی نارمل پایا گیا۔

تاہم، رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزم کے کولہوں پر سرخ نشانات موجود تھے، جبکہ کانوں کے پیچھے اور کہنیوں پر بھی کسی سخت چیز کی چوٹ کے نشانات پائے گئے۔

امریکا میں زیرتعلیم لڑکی، ملزم کا بااثر باپ: کراچی ڈیفنس میں نوجوان کے قتل کی کہانی کیا ہے؟

مصطفیٰ عامر اغواء و قتل کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، اور اس کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

25 جنوری کو مقتول کی والدہ کو ایک امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہوئی، جس کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کرکے کیس کو اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) کے حوالے کر دیا گیا۔

کراچی میں اغوا اورقتل ہونیوالے مصطفی عامر کی لاش سے متعلق آج نیوز نے تفصیلات حاصل کر لیں

بعد ازاں، 9 فروری کو اے وی سی سی نے ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کر دی، جس سے ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہو گئے۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا، لیکن جج نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالتِ عالیہ میں اپیل دائر کی۔

ابتدائی تفتیش میں ملزم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرکے لاش ملیر میں پھینک دی، تاہم بعد میں وہ اپنے بیان سے منحرف ہو گیا۔ بعد میں اے وی سی سی، سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں ملزم کے دوست شیراز کو گرفتار کیا گیا، جس نے اعتراف کیا کہ ارمغان نے اس کی مدد سے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو گھر میں تشدد کرکے قتل کیا اور لاش کو اس کی گاڑی میں حب لے جا کر نذر آتش کر دیا۔

ملزم شیراز کی نشاندہی پر مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کر لی گئی، جبکہ حب پولیس پہلے ہی مقتول کی لاش برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کر چکی تھی، جسے امانتاً دفن کر دیا گیا تھا۔ مقتول کی لاش کی برآمدگی کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دی گئیں۔

مصطفیٰ قتل کیس: جج کی جانب سے ملزم کا ریمانڈ نہ دیے جانے کی حقیقت کیا؟

تفتیشی حکام کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی۔ دوسرا گرفتار ملزم شیراز، ارمغان کے پاس کام کرتا تھا اور قتل کے منصوبے اور لاش چھپانے کی سازش میں شامل تھا۔

کراچی پولیس کے مطابق مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا، جبکہ ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور دیگر شواہد کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی، جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کر دیا۔

15 فروری کو کیس میں ایک نیا انکشاف سامنے آیا کہ مصطفیٰ اور ارمغان کے درمیان جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی، جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی۔ تفتیشی حکام انٹرپول کے ذریعے اس سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دوست تھے، اور ان کے درمیان جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، جس کے بعد تلخ کلامی کے دوران ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی۔ بعد میں ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلا کر تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے اور انٹرپول کے ذریعے اس سے رابطے کی کوشش جاری ہے۔

medical report

Mustafa Murder Case

Armaghan