بانی نے جسٹس یحییٰ آفریدی سےکہا ہے فیصلہ کریں رول آف لاء کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا نہیں، علیمہ خان
تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے لیے آٹھ ججز کا تقرر ہونا تھا، جو پانچ مختلف ہائی کورٹس کے سینئر ججز میں سے لیے جانے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف جو درخواستیں دائر کی گئی ہیں اور اس معاملے پر کارروائی چند دنوں کے لیے روکنے کی استدعا کی گئی ہے اسے مانا جائے، تاہم یہ نہیں مانی گئی۔ دوسری جانب علیمہ خان نے کہا کہ کہ بانی پی ٹی آئی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے فیصلہ کریں وہ رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر بیرسٹر علی ظفر نے بیرسٹر گوہر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سنیارٹی کا مسئلہ زیر التوا ہے اور کمیشن کی میٹنگ میں فیصلہ ہونا تھا کہ کس سینئر جج کو سپریم کورٹ میں لایا جائے۔ تاہم پی ٹی آئی کی درخواست نہ مانی گئی، جس کے باعث اجلاس میں شرکت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی کے جلسے پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ صوابی جلسے میں عوام کی بڑی تعداد کے بارے میں جان کر بانی پی ٹی آئی خوش تھے، الیکشن کے بعد پہلی بار اتنے لوگ نکلے ہیں، ہم اپنا مینڈیٹ کبھی نہیں بھولیں گے اور رابطے ختم نہیں ہونے چاہیے تھے۔
ادھر علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے صوابی جلسے میں عوام کے جذبے کو سراہا اور پنجاب و سندھ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کریں کہ وہ رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) کے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں۔
Comments are closed on this story.