بہاولنگر میں کھڈی پر کپڑا بنانے کی قدیمی روایت آج بھی برقرار
بہاولنگر میں کھڈی پر کپڑا بنانے کی قدیمی روایت آج بھی برقرار ہے، رنگ برنگے دھاگوں سے تیار شالیں، کھیس اور دیگر گرم کپڑے نہ صرف ملک بھر میں مقبول ہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی بھیجے جاتے ہیں۔
کھڈیوں کی کھٹ کھٹ کی آوازیں بہاولنگر کے نواحی گاؤں شہر فرید کی پہچان ہیں، یہاں کے کاریگر جدید مشینوں کے دور میں بھی اپنی روایتی کھڈیوں پر کپڑا تیار کر رہے ہیں۔
رنگ برنگے دھاگوں سے شاہکار تخلیق کرنے والے یہ ہنرمند قیام پاکستان سے اب تک نہ صرف سرائیکی وسیب کی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنی محنت سے دنیا بھر میں اپنے علاقے کا نام بھی روشن کر رہے ہیں۔
کھڈی پر بنی دیدہ زیب شالیں، لنگیاں، گرم سوٹ اور کھیس آج بھی لوگوں کو بہت پسند ہیں۔ ان کی مانگ نہ صرف ملک بھر میں، بلکہ بیرونِ ملک بھی یہ تحفے کے طور پر بھیجے جاتے ہیں۔
رنگ برنگے دھاگوں کا خاص طریقہ کار کے تحت کھڈی سے باندھنا اور پھر کپڑا بُننا ان کاریگروں کی مہارت اور ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن ان کو شکوہ ہے۔
ثقافتی رنگوں اور گرم چادروں میں لپٹی یہ کہانی بتاتی ہے کہ کھڈیوں کی یہ کھٹ کھٹ نہ صرف ہنر کا شاہکار ہے بلکہ ہماری ثقافت کی دھڑکن بھی ہے۔
Comments are closed on this story.