Aaj News

اتوار, اپريل 06, 2025  
07 Shawwal 1446  

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے تمام ججز کیلئے سیکیورٹی مانگ لی

جج جب پولیس کیخلاف فیصلہ دیتا ہے تو افسران ناراض ہوکر سیکیورٹی واپس لیتے ہیں اب ایسا نہیں چلے گا، جسٹس اشتیاق ابراہیم
شائع 13 دسمبر 2024 12:31pm

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تمام ججز کے لیے سیکیورٹی مانگ لی اور ریمارکس دیے کہ جج جب پولیس کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو پولیس افسران ناراض ہوکر جج سے سیکیورٹی واپس لیتے ہیں اب ایسا نہیں چلے گا جبکہ بینچ میں موجود جسٹس اعجاز انور نے پولیو کے لیے کوئی الگ فورس بنانے کا بھی کہہ دیا۔

خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال پر دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل 2 رکنی خصوصی بینچ نے سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگا کیا کہ عدالت کے حکم پر 3 اجلاس ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ تمام ججز کو سیکیورٹی دینی ہوگی، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے سیکیورٹی ہے لیکن جج جب پولیس کے خلاف فیصلہ دیتا ہے تو پولیس افسران ناراض ہوکر جج سے سیکیورٹی واپس لیتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں چلے گا، میرے تمام ججز کو سیکیورٹی دینی ہوگی، پشاور میں ایک سال میں 55 سے 60 ہزار ایف آئی آرز درج ہوئیں۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل انعام یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ ججز سیکیورٹی کے لیے ایس او پیز بنائے ہیں اور ہوم ڈپارٹمنٹ کے مطابق رسک علاقے میں تمام ججز کو سیکیورٹی دی جارہی ہے، نوٹیفکیشن میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے لیے سیکیورٹی نہیں ہے۔

نمائندہ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ اگلے ہفتے پولیو مہم کی وجہ سے پولیس وہاں پر مصروف ہوگی جس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ جب بھی پولیو مہم ہوتی ہے تو ساری پولیس اُس میں مصروف ہو جاتی ہے، پولیو کے لیے الگ فورس بنائیں اور یہ مسئلہ حل کریں۔

Peshawar High Court

cheif justice phc

justice ishtiaq ibrahim

judges security