Aaj News

اتوار, ستمبر 08, 2024  
03 Rabi ul Awal 1446  

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اگر کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے تو اس کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے، جسٹس عامر فاروق
شائع 03 جولائ 2024 01:19pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکٹرانک میڈیا پر عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کے خلاف پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نوٹیفکیشن کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو اگلے ہفتے سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کی درخواستوں پر سماعت کی۔

وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی، سینئر وکیل اظہر صدیق عدالت میں پیش، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاست علی آزاد بھی عدالت پیش ہوئے۔

وکیل اظہر صدیق نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا

سماعت کے دوران وکیل اظہر صدیق کی جانب سے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا گیا، انہوں نے بتایا کہ پیمرا پابندی معلومات تک رسائی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اگر اس معاملہ کو یہاں روکا نہیں جائے گا تو خطرناک نتائج ہوں گے۔

رپورٹرز درست رپورٹنگ کرتے ہیں، جو پروگرامز میں بیٹھ کر فیصلے سناتے ہیں وہ مسئلہ ہے، عدالت

وکیل اظہر صدیق نے حامد میر اور ارشد شریف شہید کیس کا حوالہ بھی دیا، انہوں نے کہا کہ عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کو نظر انداز نہیں کرسکتی۔

وکیل اظہر صدیق کے دلائل مکمل ہونے پر وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل عادل عزیز قاضی نے دلائل شروع کردیے، انہوں نے پاکستانی اور بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔

ایسا کیا رپورٹ ہوا تھا جس پر آپ سیدھا سیدھا پابندی پر چلے گئے، جسٹس عامر فاروق

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ایسا کیا رپورٹ ہوا تھا جس پر ڈائریکٹو جاری کرنا پڑا اور آپ سیدھا سیدھا پابندی پر چلے گئے، جس پر پیمرا کے وکیل سعد ہاشمی نے جواب دیا کہ پیمرا نے اجازت دی ہے کہ جب تحریری فیصلہ آئے تو رپورٹ کرسکتے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ زمانہ تبدیل ہوچکا ہے، چیزیں تبدیل ہوچکی ہیں، ہمیں ان چیزوں کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کی بات کروں تو ایسا کچھ نہیں کہ کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل میں نے جو کہا وہ بالکل درست رپورٹ ہوا، میں نے ہر سیاسی جماعت کے رہنماؤں کے کیس سنے لیکن کوئی ایک کیس ایسا نہیں جو مس رپورٹ ہوا، ہم نے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا کہ یہ کہنا پڑے یہ میں نے کہا ہی نہیں تھا۔

غلط رپورٹنگ کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر کہیں غلط رپورٹنگ ہوئی ہے تو اس کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے، جس پر پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ یہ ہدایت میڈیا چینلز کو جاری کی گئی ہیں، انہوں نے سپریم کورٹ کی ایک بھی گائیڈ لائن پر عمل نہیں کیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ سوال یہ ہے کہ بات پابندی کی طرف کیوں گئی؟ آپ کے سامنے کوئی کمپلینٹ نہیں آئی، ہوتی تو آپ یہاں پیش کر دیتے ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایسے کوئی شکایت نہیں بھیجی کہ غلط رپورٹنگ ہوئی ہے، کل ہم نے گھنٹوں سماعت کی لیکن سماعت کا حکم نامہ 4 سطروں پر مشتمل تھا، جو عدالتی آبزرویشن ہیں وہ بھی رپورٹ ہوسکتی ہیں، جس پر وکیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں عوامی مفاد کے مقدمات کی لائیو اسٹریمنگ ہوتی ہے۔

دے کے حساب سے آپ چلیں تو کوئی عدالت آپ کو نہیں روکے گی، چیف جسٹس

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ یہاں بھی سب کیس رپورٹ نہیں ہورہے ہیں صرف پبلک نوعیت کے مقدمات رپورٹ ہورہے ہوتے ہیں، آپ بتا دیں غلط رپورٹنگ ہوئی اور پیمرا نے ایکشن لیا ہو، زمانہ آگے جارہا ہے واپس مت جائیں، ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے، قانون قاعدے کے حساب سے آپ چلیں تو کوئی عدالت آپ کو نہیں روکے گی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکٹرانک میڈیا کو عدالتی کارروائی کی اجازت دے دی

وکیل پیمرا سعد ہاشمی نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈائریکٹو جاری کیا گیا۔

اس پر وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ یہ پتھروں کے دور میں واپس جانا چاہتے ہیں مگر میں نہیں جانا چاہتا، کوئی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے تو قانون کے مطابق طریقہ کار موجود ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا

بعد ازاں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جسٹس عامر فاروق نے بتایا کہ آئندہ ہفتے فیصلہ سنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ رپورٹرز تو بالکل درست رپورٹنگ کرتے ہیں، شام کو جو پروگرامز میں بیٹھ کر فیصلے سناتے ہیں وہ مسئلہ ہے۔

یاد رہے کہ 5 جون کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے کہ عدالتی رپورٹنگ پر کوئی پابندی نہیں ہے، میڈیا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے زیر سماعت عدالتی مقدمات سے متعلق خبر یا ٹکرز چلانے پر پابندی عائد کردی تھی۔

پیمرا کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ خبروں، حالات حاضرہ اور علاقائی زبانوں کے تمام ٹی وی چینلز زیر سماعت عدالتی مقدمات کے حوالے سے ٹکرز اور خبریں چلانے سے گریز کریں اور عدالتی تحریری حکمناموں کی خبریں بھی رپورٹ نہ کریں۔

اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ عدالت، ٹریبونل میں زیر سماعت مقدمات کے ممکنہ نتیجے کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تبصرے، رائے یا تجاویز و سفارشات پر مببنی کوئی بھی مواد نشر نہ کیا جائے۔

بعد ازاں، عدالتی رپورٹنگ کے حوالے سے صحافتی تنظیموں نے پیمرا کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کردیا تھا۔

صحافتی تنظیموں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں عدالتی رپورٹنگ پر پیمرا کی جانب سے عائد پابندی کا جائزہ لیا گیا۔

صحافتی تنظیموں نے پیمرا کی جانب سے عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیمرا نوٹیفکیشن کو آزادی صحافت اور آزاد عدلیہ کے خلاف قرار دیتے ہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کا آئین آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے اور پیمرا عدالتی کارروائی کو رپورٹ کرنے پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں رکھتا۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ پیمرا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19۔اے کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور مطالبہ کیا کہ عدالتی رپورٹنگ پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لیا جائے۔

Justice Amir Farooq

Islamabad High Court

court reporting

court reporters

Court proceedings report