کینالز معاملے پر سندھ اور پنجاب آمنے سامنے، بیان بازی میں شدت
سندھ اور پنجاب کے درمیان کینالز کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور دونوں صوبوں کے وزرا کی جانب سے ایک دوسرے پر سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ معاملے پر سیاسی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان نے کینالز کی منظوری پہلے ہی دے دی ہے اور اس کی دستاویزات پر ان کے دستخط موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اتحادی جماعت ہے، ہم ان سے کوئی لڑائی نہیں چاہتے، لیکن صرف بیان بازی سے کینالز کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قیمتوں میں کمی ایک بڑا ریلیف ہے، جس سے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم جلد ایک اور خوشخبری بھی دیں گے اور اب پاکستان میں خوشخبریوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کی ترقی کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے۔
دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کینالز کے معاملے پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں کہیں نہیں لکھا کہ صدر منظوری دیں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ سندھ کے پانی کو سیاست کا موضوع سمجھتے ہیں، وہ حقیقت سے لاعلم ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ یہ مسئلہ سندھ کے 7 کروڑ لوگوں، لاکھوں مویشیوں اور زراعت کے مستقبل کا ہے۔ انہوں نے ن لیگ کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی سمجھ دار انسان عظمیٰ بخاری جیسا بیان نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ میں کچھ افراد ایسے ہیں جو آئین کو پڑھے بغیر بیان دیتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اس معاملے پر سیاست نہیں کر رہی، بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حق کا دفاع کر رہی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ماضی میں شہید بے نظیر بھٹو نے کالاباغ ڈیم کے خلاف دھرنا دیا تھا اور پیپلز پارٹی ہمیشہ صوبائی خودمختاری کے اصول پر قائم رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وفد پہلے ہی ان سے مل چکا ہے اور کینالز کے معاملے پر پیپلز پارٹی کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
دونوں صوبوں کے وزرا کے بیانات سے واضح ہے کہ کینالز کا تنازع صرف تکنیکی نہیں، بلکہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے وفاقی حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔
Comments are closed on this story.