گرفتار صحافی فرحان ملک عید کے پہلے روز عدالت میں پیش
عید الفطر کے پہلے روز، سینئر صحافی فرحان ملک کو ملیر کورٹ پہنچا دیا گیا۔ انہیں اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے فرحان ملک کو عدالتی ریمانڈر پر لانڈھی جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
فرحان ملک کی جانب سے معروف وکیل بلال قریشی اور جبران ناصر عدالت میں پیش ہوئے۔
جبران ناصر نے بتایا کہ فرحان ملک کے خلاف پہلے مقدمے کی درخواست سماعت 3 اپریل کو ہوگی، جبکہ دوسرے مقدمے میں درخواست ضمانت کی سماعت 7 اپریل کو ہوگی۔
واضح رہے کہ سینیئر صحافی اور یوٹیوب چینل رفتار کے بانی فرحان ملک کو ایف آئی اے نے 20 مارچ کو کراچی سے گرفتار کیا تھا۔
یوٹیوب چینل ”رفتار“ کے میزبان فیصل وحید کے مطابق فرحان ملک کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت جمعرات کی شب گرفتار کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دیکھی گئی چارج شیٹ میں لکھا گیا کہ ان کو ’جان بوجھ کر ایسی معلومات پھیلانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا جو ’جعلی ہوں‘ یا ’جس سے خوف پھیلنے‘ کا خدشہ ہو۔
ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد حیدر نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’فرحان ملک کے خلاف تقریباً تین ماہ قبل انکوائری شروع کی گئی تھی۔ صحافی پر الزامات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ فرحان ملک نے سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کئی پروگرام کیے تھے اور آج انکوائری مکمل ہونے کے بعد باضابطہ طور پر انہیں گرفتار کیا گیا۔‘
خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں صدر مملکت کی جانب سے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام (پیکا ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کرنے کے بعد یہ بل نافذ العمل ہو گیا ہے۔
اس قانون کے تحت جو فرد آن لائن ”فیک نیوز“ پھیلانے میں ملوث پایا گیا اسے تین سال قید یا 20 لاکھ تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔
اس قانون کے خلاف صحافی تنظیمیں، سیاسی جماعتیں، وکلا اور دیگر لوگ تاحال سراپا احتجاج ہیں۔