Aaj News

جمعرات, اپريل 03, 2025  
05 Shawwal 1446  

الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ؛ اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے والے 10 سابق ارکان اسمبلی نااہل قرار

فیصلے میں سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 7،7 سابق ممبران بھی نااہل قرار دیے گئے
شائع 26 مارچ 2025 01:11pm

الیکشن کمیشن نے مالی سال 2022-23 کے اثاثے اور گوشواروں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہ کرانے کا معاملہ پر قومی اسمبلی کے 10 سابق ارکان، سندھ اسمبلی کے 7 اور بلوچستان اسمبلی کے 7 سابق ممبران کو نااہل قرار دے دیا۔

الیکشن کمیشن نے مالی سال 2022-23 کے اثاثے اور گوشواروں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع نہ کرانے کا معاملہ پر قومی اسمبلی کے 10 سابق ارکان، سندھ اسمبلی کے 7 اور بلوچستان اسمبلی کے 7 سابق ممبران کو ناہل قرار دے دیا۔

الیکشن کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کر دیا جس کے مطابق سابق ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی تفصیلات جمع کرانے تک عام انتخابات، ضمنی انتخابات اور سینٹ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

فیصلے کے مطابق ۔مالی سال 2022-23 کے اثاثوں کی تفصیلات کے فارم بی جمع نہ کرانے تک یہ ارکان نااہل رہیں گے۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے سابق ارکان خرم دستگیر خان، محسن نواز رانجھا اور محمد عادل کو نااہل قرار دیا۔

چیف الیکشن کمشنر،2 ممبران کی تعیناتی میں تاخیر، صدر اور وزیراعظم کو پری ایڈمشن نوٹس جاری

الیکشن کمیشن نے سابق ارکان قومی اسمبلی رانا محمد اسحاق خان، کمال الدین اور عصمت اللہ کو بھی ناہل قرار دیا۔ قومی اسمبلی کے سابق اراکین ثمینہ مطلوب، نصیبہ ، شمیم آرا پنور اور روبینہ عرفان کو بھی ناہل قرار دیا گیا ۔

الیکشن کمیشن نے تحلیل صوبائی اسمبلی سندھ کے سابق رکن عدیل احمد ، حزب اللہ بھگیو، ارسلان تاج حسین، عارف مصطفی جتوئی اور عمران علی شاہ، علی غلام اور طاہرہ کو بھی نااہل قرار دیا۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان اسمبلی کے سابق رکن میر سکندر علی، میر محمد اکبر اور سردار یار محمد رند، عبدالرشید، عبدالواحد صدیقی، میر حمال اور بی بی شاہینہ کو بھی ناہل قرار دیا ہے۔

اسلام آباد

National Assembly

Election Commission of Pakistan (ECP)