Aaj News

جمعہ, مارچ 28, 2025  
27 Ramadan 1446  

پارا چنار شاہراہ 177 روز سے بند؛ شہریوں کو شدیدمشکلات کا سامنا، احتجاجی دھرنا 24 ویں روز میں داخل

اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹ کی وجہ سے قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں
شائع 3 دن پہلے

خیبر پختونخوا کے علاقے پارا چنارکی مرکزی شاہراہ گزشتہ 177 دنوں سے بند ہونے کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پاک افغان بارڈر کی بندش نے بھی معمولات زندگی کو مزید متاثر کر دیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کی عدم دستیابی کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

مرکزی شاہراہ بند ہونے اور اشیائے خوردونوش کی ترسیل میں رکاوٹ کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ علاقے میں بڑا گوشت 2 ہزار روپے، ٹماٹر 300 روپے، بھنڈی 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔

ٹل سے پھل، سبزیاں اور اشیائے ضروریہ لے کر قافلہ پارا چنار پہنچ گیا

50 کلو چینی کی بوری 10 ہزار500 روپے، 13 کلو گھی 8 ہزار 800 روپے اور 40 کلو آٹے کی قیمت 6 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح پیٹرول اور ڈیزل 700 سے 1000 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا ہے۔ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے پر عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

اشیائے خورد و نوش سمیت دیگر سامان پر مشتمل 120 گاڑیوں کا قافلہ پارا چنار پہنچ گیا

دوسری جانب عوامی مطالبات کے حق میں کرم پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا 24 ویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ دھرنا منتظمین کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

دھرنا شرکاء کے اہم مطالبات:

ٹل پاراچنار کی واحد مین شاہراہ کو عام آمد و رفت کے لیے کھولا جائے۔ تمام گرفتار افراد کو رہا کیا جائے یا اگر وہ ملزم ہیں تو عدالت میں پیش کیا جائے۔

جن افراد کی مال بردار گاڑیاں لوٹی گئی ہیں، انہیں معاوضہ دیا جائے۔ تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولا جائے اور طلبہ و طالبات کی تعلیمی کمی کو پورا کیا جائے۔

ضلع کرم: 68 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پارا چنار پہنچ گیا، شہریوں نے خریداری شروع کردی

ادھر پارا چنار کے عوام نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے معاملے پر فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ علاقے میں معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔

KPK

KPK Government

Parachinar

Kurram Clashes

Kurram Situation