اسرائیلی نوجوان فوج کے بجائے جیل میں جانا کیوں پسند کر رہے ہیں؟
اسرائیل کی مرکزی جیل میں 18 سالہ اتمار گرین برگ امریکی فوجی وردی پہنے بیٹھا تھا، جبکہ ٹی وی پر ہالی وڈ کی فلم ”امریکن سنائپر“ چل رہی تھی۔ تاہم گرین برگ کوئی فوجی نہیں، اور یہ واحد وردی ہے جو اس نے کبھی پہنی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ”سی این این“ کے مطابق گرین برگ پچھلے ایک سال میں پانچ بار جیل جا چکا ہے اور مجموعی طور پر 197 دن قید کاٹ چکا ہے۔ رواں ماہ وہ نیوے تزیدک جیل سے آخری بار رہا ہوا۔ اس کا جرم؟ فوجی سروس کے لیے طلب کیے جانے کے باوجود بھرتی سے انکار کرنا، جو کہ اسرائیل میں زیادہ تر یہودیوں اور بعض اقلیتی گروہوں کے لیے لازمی ہے۔
گرین برگ کا کہنا ہے کہ اس نے ایک طویل فکری و اخلاقی سفر کے بعد یہ فیصلہ کیا۔ اس نے کہا، ’جتنا میں نے سیکھا، اتنا ہی مجھے یقین ہوا کہ میں وہ وردی نہیں پہن سکتا جو ظلم اور قتل کی علامت ہے۔‘ غزہ میں اسرائیل کی جنگ نے اس کے فیصلے کو مزید مضبوط کر دیا۔ اس کے مطابق، ’یہ نسل کشی ہے، ہمیں اس سے انکار کے لیے کسی اور وجہ کی ضرورت نہیں۔‘
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، 17 ماہ کی اس جنگ میں اب تک 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ پچھلے ہفتے جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد صرف چند دنوں میں 670 سے زائد فلسطینی مارے گئے اور 1200 زخمی ہوئے۔
اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے درمیان تصادم، تفصیلات سامنے آگئیں
فوجی خدمت سے انکار اور اس کے نتائج
گرین برگ کا کہنا ہے کہ وہ جیل جانے کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہے، کیونکہ اسرائیلی فوج میں شامل ہو کر وہ اس مسئلے کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ مگر اسرائیل میں فوج سے انکار سماجی علیحدگی کا باعث بنتا ہے، جہاں فوج کو صرف ایک ادارہ نہیں، بلکہ قومی شناخت کا لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی تعلیمی نظام میں بچپن ہی سے فوج کی اہمیت اجاگر کی جاتی ہے، اور اسکولوں میں طلبہ کو فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ 16 سال کی عمر میں تمام طلبہ کو پہلی بار فوجی بھرتی کے نوٹس موصول ہوتے ہیں، اور 18 سال کی عمر میں وہ لازمی سروس کے لیے بھرتی ہو جاتے ہیں۔
گرین برگ کے فیصلے کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اسے ”خود سے نفرت کرنے والا یہودی“، ”دہشت گردوں کا حامی“، اور ”غدار“ جیسے القابات دیے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کے اہل خانہ اور قریبی دوست بھی اسے مسترد کر چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور جیل میں دیگر قیدیوں کی جانب سے خطرات کی وجہ سے اسے تنہائی میں رکھا گیا۔
فوجی سروس سے انکار کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد
اگرچہ فوجی خدمت سے انکار کرنے والوں کی تعداد اب بھی کم ہے، لیکن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تنظیم ”میسر ووٹ“ کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک درجن بھر اسرائیلی نوجوانوں نے کھل کر فوجی سروس سے انکار کیا ہے، جو کہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ مزید کئی نوجوان ذہنی صحت یا دیگر وجوہات کو بنیاد بنا کر فوج میں بھرتی ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری طرف، اسرائیل میں مذہبی طبقہ بھی لازمی فوجی سروس سے مستثنیٰ رہنے پر بضد ہے، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مذہبی تعلیمات میں مشغول ہیں۔
حماس کے سینئر رہنما صلاح البردویل اہلیہ سمیت اسرائیلی حملے میں شہید
کیا انکار کا رجحان بڑھے گا؟
گرین برگ جیسے نوجوانوں کے خیالات اسرائیلی معاشرے میں اب بھی اقلیتی سمجھے جاتے ہیں، جہاں زیادہ تر لوگ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں، مگر فوجی کارروائی کی مخالفت نہیں کر رہے۔ تاہم، گرین برگ اور دیگر انکار کرنے والے امید رکھتے ہیں کہ وہ فوجی معاشرے پر سوال اٹھانے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
تل ابیب میں بائیں بازو کے ایک سیاسی اتحاد کے دفتر میں، کچھ فوجی سروس سے انکار کرنے والے مظاہرے کی تیاری کر رہے تھے۔ 19 سالہ لیور فوگل کا کہنا تھا کہ اس نے فوج کے ”تشدد پر مبنی نظام“ کو دیکھتے ہوئے بھرتی سے انکار کیا۔ اس نے ذہنی صحت کی بنیاد پر چھوٹ حاصل کر لی، لیکن بعد میں اس پر یہ واضح ہوا کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں پر مسلسل ظلم کر رہی ہے، اور یہی چیز اس کے احتجاج کی وجہ بنی۔
احتجاجی مظاہروں میں شدت
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف احتجاج زور پکڑ چکا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سیاسی بقا کے لیے غیر جمہوری اقدامات کر رہے ہیں اور ان کی جنگی پالیسی یرغمالیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے۔
ایسے میں گرین برگ اور اس کے ہم خیال افراد کو امید ہے کہ مزید اسرائیلی فوج میں شامل ہونے سے انکار کریں گے، چاہے وہ فلسطینیوں کے لیے ہمدردی نہ بھی رکھتے ہوں۔
گرین برگ کا کہنا تھا، ’اب انکار کرنا کم ممنوع سمجھا جا رہا ہے، لوگ اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، چاہے وہ ہمیں غدار سمجھیں۔‘
18 سالہ ایدو ایلام، جس نے فوجی سروس سے انکار کے جرم میں قید کاٹی، اس کا کہنا تھا، ’میں اس سب کے بجائے بچوں کے قتل سے انکار کو ترجیح دوں گا۔‘
یونیسف کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک 14,500 سے زائد فلسطینی بچے مارے جا چکے ہیں۔
اگرچہ انکار کرنے والوں کی تعداد ابھی کم ہے، مگر ان کا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی تحریک مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔