دنیا کے سب سے گہرے سمندری مقام کے گرد کائناتی زبان کے نشانات والی پراسرار دھاتی کیوبز تعینات
دنیا کے سب سے گہرے سمندی مقام کے گرد کائناتی زبان کے نشانات والی پراسرار دھاتی کیوبز تعینات کی گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سنگاپور نے 7000 میٹر گہرے سمندر کے اندر آرٹ کی تنصیب کرنے والا پہلا ملک بن کر تاریخ رقم کردی۔ تنصیب تین دھاتی کیوبز پر مشتمل ہے جسے مقامی آرٹسٹ لکشمی موہن بابو نے بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نیا پروجیکٹ جو کہ ایک فنکارانہ اظہار اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والوں کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، جسے دسمبر 2024 میں جاپان کے ساحل پر ماریانا ٹرینچ کے قریب رکھا گیا تھا۔
یہ تنصیب NuStar Technologies کی جانب سے بنائی گئی تھی، جو جاپان کی ایجنسی فار میرین-ارتھ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (JAMSTEC) کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھی۔
تیار ہوجائیں!!! ایک ستارہ اگلے ہفتے تباہ ہونے والا ہے
مذکورہ دھاتی کیوبز ایک خاص نظام کا حصہ ہیں جو زیر سمندر زلزلوں اور سونامیوں کا پتہ لگانے میں مدد کرتا ہے۔
موہن بابو جنہوں نے 2022 میں آرٹ کو خلا میں بھیج کر تاریخ رقم کی، کا خیال ہے کہ آرٹ اور سائنس کو مل کر کام کرنا چاہیے۔
ہر کیوب ہر طرف سے 10 سینٹی میٹر ہے جو سٹینلیس سٹیل سے بنا ہے جو سنکنرن کے خلاف مزاحمت کرتا ہے، اور ”علامتوں کی کائناتی زبان“ پر مبنی پانچ ڈیزائن پیش کرتا ہے۔
بھارتی کمپنی ہوا سے پینے کا پانی بنانے لگی
کیوبز میں سے ایک سنگاپور یونیورسٹی کے تیار کردہ ایک نئے طریقہ کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا۔ یہ خاص تکنیک آرٹ ورک کو گہرے سمندر کے شدید دباؤ سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ پروجیکٹ سنگاپور کی اختراعی روح کو ظاہر کرتا ہے اور ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ ٹیم ورک اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے عالمی مسائل سے نمٹنے میں آرٹ کس طرح مدد کر سکتا ہے۔