Aaj News

جمعرات, مارچ 27, 2025  
26 Ramadan 1446  

بھارتی کامیڈین کُنال کامرا کا وزیراعلیٰ کا مزاق اڑانے پر معافی سے انکار، شہری انتظامیہ نے اسٹوڈیو گرا دیا

کُنال کامرا کے ایک مزاق نے بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں سیاسی تباہی مچا دی
شائع 3 دن پہلے

بھارت کے متنازع اسٹینڈ اپ کامیڈین کُنال کامرا کی جانب سے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے خلاف طنزیہ گانے کی وجہ سے شروع ہونے والا تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ شندے کے حامی شیو سینا کارکنوں نے ممبئی کے ہیبی ٹیٹ اسٹوڈیو پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی، جس کے بعد گرفتار کیے گئے 12 افراد کو 15 ہزار روپے کے ذاتی مچلکوں پر ضمانت دے دی گئی۔

تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کامرا نے اپنے شو کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں انہوں نے بالی ووڈ فلم ”دل تو پاگل ہے“ کے ایک گانے کو پیروڈی انداز میں پیش کیا۔ گانے میں ”تھانے کے ایک لیڈر“ کا ذکر کرتے ہوئے ایکناتھ شندے کی ظاہری شخصیت اور ان کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے ساتھ تعلقات پر طنز کیا گیا، تاہم انہوں نے شندے کا نام نہیں لیا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد شندے گروپ کے شیو سینا کارکن مشتعل ہو گئے اور انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ویڈیو ہیبی ٹیٹ اسٹوڈیو میں شوٹ کی گئی، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے اسٹوڈیو اور قریبی ہوٹل میں توڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے اس واقعے میں ملوث 11 افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں شیو سینا رہنما راہول کنال بھی شامل ہیں۔

اس تنازعے کے بعد کُنال کامرا نے سوشل میڈیا پر صرف ایک جملہ پوسٹ کیا: ”The only way forward“ (آگے بڑھنے کا یہی راستہ ہے) اور ساتھ ہی آئین کی ایک کاپی ہاتھ میں لیے اپنی تصویر بھی شیئر کی۔

ادھر، برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے اہلکاروں نے پیر کے روز ہیبی ٹیٹ اسٹوڈیو کے کچھ حصوں کو غیر قانونی تعمیرات قرار دے کر مسمار کرنے کی کارروائی شروع کر دی، تاہم مبینہ خلاف ورزیوں کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔

وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کامرا کے تبصروں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹینڈ اپ کامیڈی کی آزادی ہے، لیکن کچھ بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مہاراشٹرا کے عوام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ غدار کون ہے، کامرا کو معافی مانگنی چاہیے، یہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

اس معاملے پر سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ اور سینئر اداکارہ جیا بچن نے کُنال کامرا کا دفاع کرتے ہوئے اظہارِ رائے کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا اور ممبئی میں ہونے والی توڑ پھوڑ کی مذمت کی۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جیا بچن نے کہا، ’اگر بولنے پر پابندی لگ جائے تو کیا ہوگا؟ پہلے ہی حالات خراب ہیں۔ ہر چیز پر قدغن ہے، یہی کہا جائے گا کہ فلاں موضوع پر بات کریں، فلاں پر نہیں۔‘

دوسری جانب، شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اُدَھو ٹھاکرے نے بھی کونال کامرا کی حمایت کی اور شندے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ کُنال کامرا نے کچھ غلط کیا ہے۔ غدار تو غدار ہی ہوتا ہے۔‘

ٹھاکرے نے توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ناگپور میں فسادات کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کا حکم دیا گیا، ویسے ہی اس اسٹوڈیو کو ہونے والے نقصان کی بھرپائی بھی حکومت کو کرنی چاہیے۔

ادھر، شندے کی قیادت میں شیو سینا نے کُنال کامرا، شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنماؤں سنجے راوت اور آدتیہ ٹھاکرے، اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے۔ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے اور مہاراشٹر میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

Kunal Kamra

Indian Standup Comedian

Eknath Shinde

Udhav Thakrey