دفتر خارجہ کی غزہ میں امداد کو روکنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اہم امداد کو روکنے کے اسرائیلی فیصلے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تازہ ترین کارروائی اسرائیل کی منظم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو انتہائی ضروری انسانی امداد سے انکار کرنا ہے۔
شفقت علی خان نے بیان میں کہا کہ یہ قابض طاقت کی طرف سے بین الاقوامی قانون کی ایک اور صریح خلاف ورزی ہے، اور جنگ بندی کے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
حماس کا جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع سے انکار
ترجمان دفترخارجہ کے مطابق ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ تک غیر محدود انسانی رسائی کو یقینی بنائے اور لاکھوں شہریوں کو انسانی امداد سے انکار کے ذریعے اجتماعی سزا کے نفاذ کے لیے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے۔
شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے معاہدے کے مکمل نفاذ کے ساتھ ساتھ دو ریاستی حل کے حصول کے لیے سیاسی عمل کی بحالی کے لیے بھی اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک قابل عمل، خودمختار فلسطینی ریاست ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
سعودی سفیرنواف بن سید الماکی کی دفترخارجہ آمد
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں تعینات سعودی سفیرنواف بن سیدالماکی نے دفتر خارجہ میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملاقات میں پاک سعودی تعلقات پرتفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا، ملاقات میں وزرائے اجلاس کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور غزہ کی صورتحال کے تناظرمیں مشاورت بھی کی گئی۔
Comments are closed on this story.