ملزم ارمغان کے گھر سے اربوں روپے کی کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد
مصطفیٰ قتل کیس میں مرکزی ملزم ارمغان کے گھر سے اربوں روپے کی کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد کی گئیں، دونوں مشینوں کی پاکستان میں مالیت دو ارب روپے سے زائد ہے۔ تفتیشی حکام نے دعوٰی کیا امریکا میں ارمغان ایک رشتے دار تمام رقم کرپٹوکرنسی کے اکاؤنٹ میں بھیجتا تھا۔
گرفتار ملزم ارمغان کے حوالے سے مزید سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن میں اس کے مرچنٹ اکاؤنٹس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے بڑے پیمانے پر مالیاتی جعل سازی اور گھر سے اربوں روپے کی کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد کی گئیں۔
تحقیقات کے مطابق، ملزم کے متعدد مرچنٹ اکاؤنٹس تھے، جو جعلسازی سے حاصل شدہ رقم کی منتقلی کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ارمغان حاصل شدہ رقم کو براہ راست کرپٹو کرنسی میں منتقل کرتا تھا اور اب تک ملین ڈالرز کی مشکوک رقم کرپٹو میں تبدیل کی جا چکی ہے۔
’ارمغان نے لڑکی کی وجہ سے مجھے دھمکی دی تھی‘، ایک اور قریبی دوست کا انکشاف
ذرائع کے مطابق بیرون ملک سے آنے والی رقوم کو کرپٹو اے ٹی ایمز میں براہ راست منتقل کیا جاتا تھا، جس سے ان کا سراغ لگانا مزید مشکل ہو جاتا تھا۔
اربوں روپے کی دو کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد
مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے گھر سے اربوں روپے سے زائد مالیت کی دو کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد ہوئی ہیں۔
تفتیشی حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ ملزم ارمغان امریکا میں موجود اپنے رشتے دار تمام رقم کرپٹو کرنسی کے اکاؤنٹ میں بھیجتا تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ارمغان کے گھر سے 2 کرپٹوکرنسی کی مائننگ مشینیں برآمد ہوئی ہیں، دونوں مشینوں کی پاکستان میں مالیت 2 ارب روپے سے زائد ہے۔
حکام نے بتایا کہ ملزم مبینہ طور پر غیر قانونی کال سینٹر کی کمائی کو امریکا میں رشتے دار کو بھیجتا تھا، ملزم کا قریبی رشتے دار امریکی ڈالر کا ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈر ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کا رشتے دار تمام رقم کرپٹوکرنسی کے اکاؤنٹ میں بھیجتا تھا، مبینہ طور پر دھوکے بازی سے کمائی گئی رقم سے ملزم کرپٹوکرنسی خریدتا تھا۔
کرپٹو ٹرانزیکشنز کی نگرانی تقریباً ناممکن ہے، سائبر سیکیورٹی ماہرین
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم ارمغان کی کرپٹو میں منتقل کی گئی رقم کے شواہد حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ کرپٹو لین دین کو ٹریس کرنا روایتی بینکنگ سسٹم کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔
کراچی ڈیفنس کے رہائشیوں کا حکام سے ارمغان کا بنگلہ خالی کرانے کا مطالبہ
مزید تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ارمغان نے پاکستان میں اپنے تمام بینک اکاؤنٹس بند کر دیے تھے اور وہ کرپٹو کرنسی کو ”ریڈ ڈاٹ پے“ پر منتقل کرکے ویزا اور آئی فون ورچوئل کارڈز بنا چکا تھا۔
ان ورچوئل کارڈز کی مدد سے ملزم کسی بھی اے ٹی ایم سے رقم نکال سکتا تھا، جس سے اس کی مالی سرگرمیاں مزید مشکوک ہو جاتی ہیں۔
تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملزم ارمغان نے یہ رقم کن ذرائع سے حاصل کی اور کن نیٹ ورکس کے ذریعے کرپٹو میں منتقل کی گئی۔
تین لڑکیاں کون ہیں
مصطفی قتل کیس میں تین لڑکیاں کون ہیں؟ پولیس اب تک گتھی سلجھا نہ سکی۔ مارشا، انجلینا اور زوما کیا تین الگ الگ لڑکیاں ہیں۔ یا ایک ہی لڑکی کے کئی نام ہیں ۔ اب تک واضح نہ ہوسکا۔
مصطفٰی قتل کیس می تین لڑکیاں، تین کہانیاں بن گئیں۔ کیس کے بدلتے زاویوں سے تفیش میں پریشانیوں کا باعث ہیں، پہلے مارشا، پھر انجلینا اوراب زوما سامنے آ گئی۔
مصطفیٰ کیس میں ایک کے بعد ایک ناموں کی انٹری ہو رہی ہے۔ ہرکردار کے حوالے سے الگ ہی داستان سامنے آئی۔ ایک امریکا چلی گئی، دوسری کو پولیس نے تلاش کرلیا اورتیسری کہاں ہے؟ کچھ پتہ نہ چل سکا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی تینوں الگ الگ لڑکیاں ہیں؟ یا پھرایک ہی لڑکی کے کئی نام ہیں؟ کیا یہ سب ارمغان کے کال سینٹر کی ملازم تھیں؟ پولیس اب تک سوالوں کاجواب نہ ڈھونڈسکی۔
وزیراعلی سندھ کی پھرتیاں
دوسری جانب مصطفیٰ عامر قتل کیس میں وزیراعلیٰ سندھ نے پھرتیاں دکھانا شروع کردیں، قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی اجلاس سے ایک دن قبل آئی جی سندھ ، ایڈیشنل آئی جی اور دیگر حکام کو طلب کر لیا۔
سندھ حکومت نے کیس سے متعلق حکام سے بریفنگ بھی لی۔ قائمہ کمیٹی نے آئی جی کو کل پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
Comments are closed on this story.