گرل فرینڈ کے دھوکے سے بچنے کیلئے بوائے فرینڈ کا انوکھا طریقہ
محبت میں شک اور بے یقینی اکثر رشتے کو کمزور کر دیتی ہے، مگر بعض اوقات یہ جنون کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ برطانیہ میں پیش آنے والا یہ خوفناک واقعہ ایسی ہی ایک مثال ہے، جہاں ایک بوائے فرینڈ نے اپنی گرل فرینڈ کو اس حد تک بدحال کر دیا کہ کوئی اور اسے پسند نہ کر سکے۔
ہنّا میلر کا بوائے فرینڈ بین فٹن اسے بےحد کنٹرول کرتا تھا۔ اسے یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ ہنّا اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس نہ چلی جائے، اس لیے اس نے ایک بھیانک طریقہ اپنایا۔ وہ اسے بدحال، گندا اور غیر پرکشش رکھنے پر مجبور کرتا رہا۔
خوفناک قابو پانے کی کوشش
بین نے ہنّا کو ذاتی صفائی کا خیال رکھنے سے روک دیا، یہاں تک کہ اسے دانت صاف کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی، تاکہ اس کے دانت خراب ہو جائیں اور وہ کسی دوسرے مرد کے لیے کشش نہ رکھے۔ وہ اسے جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا، عوامی طور پر بےعزت کرتا، اور حد تو یہ تھی کہ اسے ’طوائف‘ کہہ کر پکارنے لگا۔
بےبسی اور بقا کی جنگ
یہ ظلم صرف جسمانی حد تک محدود نہیں تھا۔ بین کا یہ رویہ ہنّا کے لیے نفسیاتی قید بن چکا تھا۔ وہ کئی بار تشدد سہنے کے بعد اتنی مایوس ہو چکی تھی کہ اسے لگتا تھا کہ مر جانا شاید اس زندگی سے بہتر ہے۔
کسے محبت کہتے ہیں آج تک سمجھ نہیں آیا، صباحمید
ایک دن جب ہنّا نے بین سے کہا! ’بین، سچ کا سامنا کرو اور سب کو بتا دو کہ تم حقیقت میں کیا ہو!‘
یہ سننا تھا کہ بین کا غصہ آسمان کو چھونے لگا، اور اس نے ہنّا کو زور سے زمین پر پٹخ دیا، جس سے اس کے گھٹنے کی ہڈی چٹخ گئی اور سر پر گہرا زخم آیا۔
مگر وہ لمحہ جب ہنّا نے بین کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت کی، تب آیا جب بین نے اسے دھمکی دی،
’میں تمہارے بیٹے کو مار ڈالوں گا۔‘
یہ سنتے ہی ہنّا نے پولیس کی لائیو چیٹ پر مدد کے لیے پیغام بھیجا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بین کو گرفتار کر لیا، اور عدالت نے اسے 18 سال قید کی سزا سنا دی۔
یہ کہانی ہمیں کئی سبق سکھاتی ہے، محبت تو بہت خوبصورت اور کومل جزبہ ہے بلکل اس طرح کے پھول مہکتا رہے ناکہ اسے کچل دیا جائے یا توڑ دیا جائے۔
آج کے نوجوان کیوں محبت میں جلدی تھک جاتے ہیں؟ آشا بھو سلے پریشان
محبت کا مطلب قابو پانا نہیں، اگر آپکا ساتھی آپ کو ذہنی و جسمانی اذیت دے رہا ہے، تو یہ محبت نہیں، جبر ہے۔ اگر کوئی رشتہ محبت کے بجائے خوف اور جبر پر قائم ہو، تو وہ زہر آلود ہوتا ہے۔ خاموشی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ مدد لینا ہی نجات کی راہ ہے۔
ظلم کے خلاف خاموشی سب سے بڑی دشمن ہے اگر وقت پر آواز نہ اٹھائی جائے۔ یہ بات بلکل درست ہے کہ ظلم سہنے سے بڑھتا ہے کیونکہ ظالم آپ کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے۔
Comments are closed on this story.