روس یوکرین جنگ میں شامل ’بوچا جادوگرنیاں‘ کون ہیں؟
روس اور یوکرین کی جنگ نے لاکھوں لوگوں کو بےگھر کر دیا ہے اور عام شہریوں کو اپنی زمین کے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان ہی شہریوں میں سے ایک نمایاں گروہ ’بُوچا کی جادوگرنیوں‘ کے نام سے ابھرا ہے۔
بُوچا کی جادوگرنیاں کون ہیں؟
یہ ایک بہادر خواتین کا گروپ ہے جو روسی ڈرونز کو مار گرانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان میں شامل زیادہ تر خواتین نے اس جنگ میں ذاتی نقصانات اٹھائے ہیں۔ بوچا، جو یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مضافات میں واقع ہے، ان اولین علاقوں میں شامل تھا جہاں روسی افواج نے مبینہ طور پر جنگی جرائم کیے۔
رپورٹس کے مطابق، روسی فوجیوں نے 33 دن کی بُوچا پر قبضے کے دوران تقریباً 450 عام شہریوں کو قتل کیا، جبکہ ہزاروں افراد کو تشدد، زیادتی، اور لوٹ مار کا نشانہ بنایا۔ ان المناک حالات نے بُوچا کی خواتین کو مجبور کیا کہ وہ خود اپنے گھروں اور خاندانوں کی حفاظت کے لیے میدان میں آئیں۔ چنانچہ انہوں نے ’بُوچا کی جادوگرنیاں‘ کے نام سے ایک دفاعی گروپ بنایا اور دشمن کے خلاف جنگ لڑنے کا عزم کیا۔
یوکرین میں جنگ کے خاتمے کیلئے سعودی عرب کی میزبانی میں روس اور امریکا کی بیٹھک
یہ خواتین کس طرح دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں؟
یہ گروپ ہر عمر کی خواتین پر مشتمل ہے۔ کچھ کی عمر 19 سال جبکہ کچھ 60 سال سے زائد ہیں۔ ان کا بنیادی کام ایرانی ساختہ شاہد اور روسی جیران ڈرونز کو مار گرانا ہے، جو کہ جنگی میدان میں خطرناک ہتھیار تصور کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر خواتین نے پہلے کبھی فوجی تربیت حاصل نہیں کی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں انہوں نے یوکرین کی فوج میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔
بُوچا کی جادوگرنیاں کہاں تربیت حاصل کرتی ہیں؟
چونکہ ان خواتین کے پاس پہلے سے کوئی فوجی تجربہ نہیں تھا، اس لیے انہیں سخت تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ ان کا تربیتی مرکز، جسے مذاقاً ’مورڈور‘ (مشہور ناول لارڈ آف دی رنگز کے ایک تاریک علاقے کا نام) کہا جاتا ہے، انہیں جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہاں ماہر فوجی انسٹرکٹرز انہیں گولی چلانے، ڈرون کو مار گرانے، اور جنگی حکمت عملی سکھاتے ہیں۔ ان کی تربیت میں ایک پرانے ماکسم ایم 1910 مشین گن کا استعمال بھی شامل ہے، جو جدید جنگ میں ڈرونز کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
بُوچا کی جادوگرنیاں کیوں لڑ رہی ہیں؟
یوکرین میں خواتین کی فوج میں شمولیت میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 65 ہزار خواتین یوکرینی فوج میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں، جن میں سے 4 ہزار خواتین براہِ راست جنگی محاذ پر ہیں۔
ہر خاتون کی جنگ میں شمولیت کی اپنی کہانی ہے۔
کترینا، جو کیف میں ایک آرٹ گیلری کی مالک تھیں، نے ابتدا میں جھجک محسوس کی، لیکن بعد میں اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہو گئیں۔
نتالیہ، جو جنگ کے آغاز میں اپنے بچوں کے ساتھ بُوچا سے فرار ہو گئی تھیں، اب واپس آ کر دشمن سے بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہیں۔
یوکرین کو شامل کیے بغیر امریکا اور روس کا کوئی فیصلہ قبول نہیں کروں گا، صدر یوکرین
اولینا، جو فوجی پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، کا کہنا ہے، ’میرا مقصد لوگوں کو محفوظ رکھنا اور انہیں سکون کی نیند دینا ہے۔‘
ان تمام خواتین کا واحد مقصد اپنے ملک اور اپنے لوگوں کو دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ وہ اس جنگ کو کسی تماشائی کی طرح نہیں دیکھنا چاہتیں، بلکہ عملی طور پر حصہ لے رہی ہیں تاکہ اپنے گھروں، خاندانوں، اور یوکرین کی آزادی کی حفاظت کر سکیں۔
بُوچا کی جادوگرنیاں صرف ایک فوجی یونٹ نہیں، بلکہ خواتین کی ہمت، جرات، اور استقامت کی ایک روشن مثال ہیں۔ یہ خواتین، جو کبھی عام زندگی گزار رہی تھیں، اب اپنی آزادی اور ملک کے دفاع کی جنگ میں سب سے آگے کھڑی ہیں۔
یوکرین جنگ پر اہم پیشرفت، ٹرمپ کا پیوٹن کی ملاقات کا عندیہ
یہ ایک ایسی تحریک ہے جو نہ صرف یوکرین بلکہ دنیا بھر کی خواتین کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ جب بات اپنے گھروں اور خاندانوں کے دفاع کی ہو، تو عزم اور حوصلے کی کوئی حد نہیں ہوتی۔
Comments are closed on this story.