Aaj News

جمعہ, اپريل 04, 2025  
05 Shawwal 1446  

موت کے وقت جسم سے روح کے اخراج کا ثبوت کیا؟ سائنس کو شاید جواب مل گیا

حالیہ تحقیقات نے سائنسدانوں کیلئے تحقیق کی ایک نئی راہ کھول دی
شائع 19 فروری 2025 02:01pm

موت کا لمحہ ایک ایسا اسرار ہے جو صدیوں سے انسان کو حیران کیے ہوئے ہے۔ مختلف مذاہب، فلسفے اور سائنس اس موضوع پر اپنے اپنے زاویے سے روشنی ڈالتے رہے ہیں۔ حالیہ سائنسی تحقیقات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا واقعی موت کے وقت جسم سے روح کے اخراج کا کوئی ثبوت موجود ہے؟

موت کے وقت دماغی سرگرمیوں کا مشاہدہ

ڈاکٹر اسٹورٹ ہیمروف جو ایک اینستھیزیولوجسٹ اور ماہر نفسیات ہیں، نے حالیہ تحقیق میں بتایا کہ ایک کلینیکل طور پر مردہ مریض کے دماغ میں ایک عجیب و غریب توانائی کا اخراج دیکھا گیا۔ یہ اخراج اُس وقت ریکارڈ کیا گیا جب مریض کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن مکمل طور پر رک چکی تھی۔

یہ توانائی دماغی لہر ’گاما سنکرونی‘ کی صورت میں نمودار ہوئی، جو شعوری سوچ، آگاہی اور ادراک سے منسلک ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سرگرمی موت کے بعد تقریباً 30 سے 90 سیکنڈ تک جاری رہی۔

کیا یہ روح کا اخراج ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر ہیمرآف کے مطابق، یہ غیر معمولی سرگرمی ’موت کے وقت کا تجربہ‘ ہو سکتی ہے، یا شاید یہ روح کے جسم سے نکلنے کی علامت ہو۔

لافانی زندگی حاصل کرنے کا ’قابل عمل‘ نظریہ، کوئی بوڑھا نہیں ہوگا

ان کے مطابق، شعورایک کم توانائی کی ضرورت والا عمل ہو سکتا ہے اور دماغ کی ’گہری سطح‘ پر پایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موت کے وقت جب دماغ کی دیگر سرگرمیاں رک جاتی ہیں، شعور کچھ دیر تک باقی رہ سکتا ہے۔

کچھ سائنس دانوں کے نزدیک یہ دماغ کی ’آخری سانس‘ ہو سکتی ہیں، جب نیورونز (اعصابیے) موت کے بعد بھی وقتی طور پر سرگرم رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ محض ایک سراب بھی ہو سکتا ہے۔

شعور اور کوانٹم میکانیات کا تعلق

ڈاکٹر ہیمرآف نے ’کوانٹم سطح پر دماغی سرگرمی‘ کی ایک تھیوری بھی پیش کی۔ اس تھیوری کے مطابق، دماغ کے کچھ افعال روایتی نیورل راستوں کے بجائے کوانٹم میکانیاتی عمل پر منحصر ہو سکتے ہیں۔

یہ نظریہ بتاتا ہے کہ شعور دراصل نیورونز کے اندر کوانٹم وائبریشن کا مجموعہ ہو سکتا ہے، جو موت کے وقت دماغ میں اچانک توانائی کی بڑھوتری کی وضاحت کر سکتا ہے۔

تحقیقی مطالعہ، ڈاکٹر رابن لیسٹر کارہارٹ - ہیرس کا تجربہ

ڈاکٹر ہیمرآف نے ایک اور مطالعے کا حوالہ دیا جو ڈاکٹر رابن لیسٹر کارہارٹ ہیرس نے کیا تھا۔ اس تحقیق میں رضاکاروں کو ایک سایکو ایکٹو مرکب ”psilocybin“ دیا گیا اور ان کے دماغ کی سرگرمی کو ایم آر آئی اور ای ای جی کے ذریعے مانیٹر کیا گیا۔

موت کے فوراً بعد کیا ہوتا ہے؟ نرس کے دل دہلا دینے والے انکشافات

حیرت انگیز طور پر، رضاکاروں نے شدید خیالی تجربات محسوس کیے، جبکہ ایم آر آئی میں دماغ کی سرگرمی خاموش اور تاریک رہی۔ اس مشاہدے نے اس نظریے کو تقویت دی کہ شعور روایتی دماغی سرگرمیوں سے ہٹ کر ایک گہری کوانٹم سطح پر ہو سکتا ہے۔

اگرچہ سائنس ابھی اس سوال کا مکمل جواب دینے سے قاصر ہے کہ کیا موت کے وقت روح واقعی جسم سے نکلتی ہے، لیکن حالیہ تحقیقات نے ایک نئی راہ کھولی ہے۔ دماغی سرگرمیوں کا یہ غیر معمولی مشاہدہ اور شعور کے کم توانائی پر مبنی عمل کا نظریہ ہمیں اس راز کے قریب لے جا سکتا ہے۔

موت اور روح کے اخراج کا یہ موضوع تحقیق اور بحث کا ایک دلچسپ میدان ہے، جو سائنس اور روحانیت کے مابین ایک پل قائم کر سکتا ہے۔ مستقبل میں مزید تحقیق سے ممکن ہے کہ ہم اس ابدی سوال کا جواب پا سکیں کہ کیا واقعی جسم سے روح کا اخراج ایک سائنسی حقیقت ہے۔

world

سائنس

information

Death Experience