داعش خراسان کا افغان حکومت کیخلاف منصوبہ بے نقاب، خفیہ ایجنسیوں کا انتباہ جاری
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ داعش خراسان افغانستان میں کمزور علاقائی کنٹرول کا فائدہ اٹھا رہی ہے جس سے نہ صرف عبوری افغان حکومت بلکہ پورا خطہ خطرے میں ہے۔
خفیہ ایجنسیوں کو باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں ضلع کنڑ کی تحصیل چھپا درہ میں داعش خراسان کے کمانڈر گل ناظم عرف مولوی ذاکر کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔
جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 30 خوارج ہلاک
اس اجلاس میں افغان عبوری حکومت کے خلاف دہشتگرد سرگرمیاں بڑھانے، کنڑ اور ننگرہار میں اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے اور بعض افغان طالبان رہنماؤں کے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان عبوری حکومت کو چاہیے وہ اس بڑھتے ہوئے خطرے کا فوری اور مؤثر مقابلہ کرے۔
کرم: پارا چنار جانے والے قافلے اور سیکیورٹی فورسز پر حملہ، جاں بحق افراد کی تعداد 9 ہوگئی
ذرائع نے کہا کہ داعش خراسان اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور موقع ملتے ہی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کریں گے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے افغان عبوری حکومت سے گزارش کی ہے کہ وہ فتنہ الخوارج یعنی ٹی ٹی پی کی سرپرستی سے باز رہے۔
Comments are closed on this story.