Aaj News

جمعرات, اپريل 03, 2025  
05 Shawwal 1446  

عمران خان کے پاس مخصوص 8، 10لوگ جاتے ہیں، وہی چپاتیاں پکا رہے ہیں، شیر افضل مروت

پی ٹی آئی عہدیدار ان لوگوں کے ہاتھوں ذہنی مریض بن چکے ہیں، آج ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو
اپ ڈیٹ 15 فروری 2025 10:17pm

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے پاس مخصوص 8، 10لوگ جاتے ہیں، وہی چپاتیاں پکا رہے ہیں، بانی کے کان بھرتے ہیں، کسی کو وزارت، کسی کو ریجنل صدور بناتے ہیں اور کسی کو گراتے ہیں، کے پی کی پوری کابینہ اور پی ٹی آئی عہدیدار ان لوگوں کے ہاتھوں ذہنی مریض بن چکے ہیں، یہ لوگ انہیں بلیک میل کرتے ہیں، کام نہ کریں تو بانی سے شکایت لگاتے ہیں۔

آج ٹی وی کے پروگرام ’روبرو‘ کے میزبان شوکت پراچہ سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کہا ہے کہ کمپنی نے ہمارا ستیا ناس کیا ہوا ہے، سلمان اکرم راجا قبضہ مافیا کے ماؤتھ پیس ہیں، ہم آئین پاکستان کی بالادستی کی جدوجہد کر رہے ہیں، جس دن عمران خان کہیں گے، میں قومی اسمبلی سے مستعفی ہو جائوں گا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اپنی جماعت پر سلمان اکرم جیسے لوگوں کو جگہ نہیں دوں گا، ان کی کیا خصوصیت ہے جو سیکرٹری جنرل بنا، سلمان اکرم راجا ایک سیٹ پر بھی نہیں جیتے ہیں، میں ان کو بتاؤں گا کہ ڈسپلن ہوتا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم بانی کا پرچم لے کرملک کے کونے کونے میں گئے، مجھ پرغداری کا فتوی جاری کیا گیا، سلمان اکرم اینڈ کمپنی نے مجھے کئی بار پارٹی سے نکلوایا، مخصوص اور محدود لوگ ہی بانی سے ملاقات کرتے ہیں، یہ لوگ ہی لوگوں کو لگواتے اور ہٹوا رہے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ جنید اکبرنے اور میں نے مشکل وقت ساتھ گزارا ہے، جنید اکبر نے پارٹی کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں، عمران خان کے دیرینہ ساتھی ہیں، انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن کا ہر تھانہ بھگتا ہے، میں نے ان کے لئے بھرپور آواز اٹھائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ برے دنوں کا ساتھی ساتھ نہیں چھوڑتا ہے، بانی نے خود کہا تھا کہ کیا ہم کوئی غلام ہیں، بانی کے الفاظ ہیں کہ غلط فیصلے کروں تو مجھے بھی جواب دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہم سے غلط فیصلے ہوئے، بزدار، پرویز خٹک اور محمودخان جیسے لوگ پارٹی پر تھوپے گئے، اگر اس وقت اختلاف کی آواز اٹھتی تو غلط فیصلے نہ ہوتے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے پارٹی کے باہمی مشورے سے رہنمائوں، وکلا اور اہل خانہ کی فہرست بنائی تھی، ان سیاسی عمائدین نے دوسری ہی ملاقات میں میرا دھڑن تختہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ایک فتنہ یا شرپسند گروپ فعال ہے جس کا کام ہے غیبت کرنا اور اس کے ذریعے دوسروں کو گرانا ہے، ان کا مقصد اپنے اور دوستوں کے لئے فائدے لینا ہے، مجھے ان لوگوں کے مقاصد کاعلم ہے، لیکن عمران خان کے احترام میں ابھی بتا نہیں سکتا ہوں، اگر کارکنوں کو پتا چل گیا تو ایک کہرام مچ جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں عمران خان کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، کوئی ان سے اختلاف کر رہی نہیں سکتا، بانی پی ٹی آئی اور کارکنوں کو اندھیرے میں رکھنے کے باعث پچھلے ایک سال میں ہم ناکامی سے دوچار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے کاز سے ہٹ چکے ہیں۔

رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ میرا سوال یہی ہے کہ مجھے کیوں نکالا، نہ میرا موقف سنا گیا، نہ کوئی کمیٹی بنائی گئی، دو تین شرپسندوں نے عمران خان کے کان بھرے اور مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جنہوں نے ووٹ بیچا، اپنا ضمیر بیچا، جن کو شوکاز دیئے گئے ان کو تو نہیں نکالا، جو لوگ کبھی پارٹی کے لئے نکلے ہی نہیں، کبھی نظر ہی نہیں آئے، کبھی گرفتار نہیں ہوئے ہیں، ان کو کیوں نہیں نکالا گیا؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ جنہوں نے عمران خان کو سوشل میڈیا پر گالیاں دی ہیں، ان کو تو نہیں نکالا، جن لوگوں نے پارٹی کے لئے کبھی کوئی قربانی نہیں دی، انہیں پارٹی سے کیوں نہیں نکالا گیا؟

شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان اور میرے درمیان فاصلے اسٹیبشلمنٹ کی ایما پر پیدا کئے گئے ہیں، کمپرومائزڈ لوگوں نے پارٹی کا ستیا ناس کیا ہوا ہے، کچھ لوگ چھوٹے مقاصد کے لئے استعمال ہوئے ہیں، کم بختوں نے مجھے مندرکا گھنٹہ بنا دیا، جوآتا ہے بجا رہا ہے۔

AAJ NEWS

Aaj News program

TV Show

aaj Tv