انسانی تاریخ کی سب سے واضح خلائی مخلوق کے جہاز کی تصویر کے پیچھے کی پراسرار کہانی
دنیا میں یو ایف او (اڑن طشتری) کی کئی کہانیاں منظرِ عام پر آئیں، مگر کیلون (Calvine) کی تصویر کو ’تاریخ کی بہترین یو ایف او تصویر‘ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ 1990 میں اسکاٹ لینڈ میں پیش آیا، جب دو افراد نے آسمان میں ایک پراسرار فلائنگ آبجیکٹ دیکھا اور اس کی تصویر کھینچ لی۔ لیکن اس تصویر کے ساتھ جو کہانی جُڑی ہے، وہ آج بھی ایک راز بنی ہوئی ہے۔
اسکاٹ لینڈ کے کیلون نامی علاقے میں ایک رات، دو شہری ایک پہاڑی راستے سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک بڑے، ہیرے کی شکل کے دھاتی جسم کو ہوا میں معلق دیکھا۔
یہ کوئی عام جہاز نہیں لگ رہا تھا، اور اس کے قریب ہی ایک جیٹ طیارہ بھی دکھائی دے رہا تھا، جیسے وہ اس پراسرار چیز کی نگرانی کر رہا ہو۔ خوف اور حیرانی کے عالم میں، ان افراد نے کیمرے سے چھ تصاویر لیں اور یہ تصاویر برطانوی وزارتِ دفاع (MoD) تک پہنچ گئیں۔
جب یہ تصاویر برطانوی حکومت کے پاس پہنچیں، تو انہیں فوراً خفیہ قرار دے دیا گیا۔
دہائیوں تک ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا، اور 32 سال تک یہ راز برقرار رہا۔ پھر 2022 میں ایک تصویر منظرِ عام پر آئی، مگر اس کے اصل نیگٹیوز آج تک گم ہیں۔ کیا یہ واقعی کسی اور دنیا کی مخلوق کا ثبوت تھا؟ یا پھر یہ کسی خفیہ فوجی تجربے کا حصہ تھا؟

کچھ تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر برطانوی یا امریکی خفیہ طیارے کا حصہ ہوسکتی ہے، جو اس وقت تجربات کے مراحل میں تھا۔ لیکن کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ایک حقیقی یو ایف او کی موجودگی کا ثبوت ہے، جسے حکومت نے دنیا سے چھپا لیا۔
برطانوی وزیراعظم اصلی ’ٹرمینیٹر‘ اور ’اسکائی نیٹ‘ متعارف کروانے والے ہیں؟
یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ کیلون کی تصویر میں نظر آنے والی شے اصل میں کیا تھی؟
کیا ہم واقعی کسی اور دنیا کی مخلوق سے رابطے میں آچکے ہیں، یا پھر یہ سب ایک بڑی حکومتی سازش تھی؟ شاید آنے والے وقت میں مزید شواہد سامنے آئیں، جو اس پراسرار کہانی سے پردہ اٹھا سکیں۔ تب تک، کیلون کی تصویر یو ایف او کی دنیا میں ایک معمہ بنی رہے گی۔
Comments are closed on this story.