یونان کشتی حادثے میں 6 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق، لاپتہ پاکستانیوں میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی شامل
وزارت خارجہ نے یونان کشتی حادثے میں مزید پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ہے، یونان کشتی حادثے میں چھ پاکستانی جاں بحق ہوئے، کشتی میں تراسی پاکستانی سوار تھے۔ یونان میں سفیرعامر آفتاب نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ لاپتہ پاکستانیوں میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی ہے، یونان کشتی حادثہ میں بچ جانے والے 46 پاکستانیوں کی ویڈیو آج نیوز نے حاصل کرلی۔
کشتی حادثے کے متاثرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا تعلق پنجاب کے علاقوں گجرات، سیالکوٹ اور ضلع قصورسے ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 10 تاریخ کو روانہ ہوئے، 11 کو کشتی میں سوار ہوئے، ہم پاکستان سے لیبیا آئے تھے، وہاں ڈیڑھ سے دو ماہ شدید اذیت کا شکار رہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم 3 دن تک سمندر میں سفر کرتے رہے، کشتی کا انجن ٹھیک تھا نہ ہی واکی ٹاکی، حادثےکے بعد ہمیں ایک کارگو شپ نے بچایا۔
کشتی حادثہ کے متاثرین نے بتایا کہ ہمارے پاس کپڑے، چپلیں اور موبائل فون بھی نہیں، اس وقت ہم یونان کے کیمپ میں بیٹھے ہیں۔
واضح رہے کہ 2 روز قبل یونانی جزیرہ غاودوس، کریتی میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو لے جانے والی لکڑی کی کشتی کے ڈوبنے کے بعد لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کوسٹ گارڈ کا آپریشن جاری ہے۔
یونان کے جنوبی جزیرے کریتی کے قریب تین کشتیاں الٹنے سے پانچ تارکین وطن جاں بحق اور 40 لاپتا ہوگئے تھے، جبکہ 39 افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جن میں زیادہ تر پاکستانی ہیں۔
دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ یونانی حکام کی جانب سے شیئر کی گئی تازہ معلومات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 6 پاکستانیوں کی شناخت ہوگئی ہے۔
سعودی عرب میں کفیل سے بھاگے تارکین وطن کیلئے بڑی رعایت کا اعلان
ہفتے کو5 افراد کو مردہ حالت میں نکالا گیا، جبکہ ایک شخص کو تشویش ناک حالت میں اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق 47 پاکستانیوں کو ریسکیو کرلیا گیا، فی الحال لاپتہ افراد کی تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔
برطانیہ: تارکین وطن کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ
ترجمان کے مطابق لاپتہ پاکستانی افراد کے متاثرین کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری کردیا گیا ، متاثرہ خاندان 6943850188-0030 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ہمارا سفارت خانہ یونانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ بچ جانے والوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں اور لاشوں کو وطن واپس پہنچایا جا سکے۔
Comments are closed on this story.