عمران خان کو رہائی کی آفر کا انکشاف، ’حکومت نے خوف زدہ ہو کر بیرسٹر گوہر کو بلایا تھا‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج پر حکومت نے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو آفر کی تھی کہ اگر آپ لوگ سنگجانی بیٹھ جائیں بانی پی ٹی آئی کو رہا کر دیا جائے گا۔
لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ لوگ احتجاج کے لیے آنا شروع ہوئے تو حکومت نے خوف زدہ ہو کر بیرسٹر گوہر کو بلایا تھا، اور دباؤ میں آکر بیرسٹر گوہر کو عمران خان سے ملاقات کے لیے جیل بھجوایا۔
علیمہ خان کے مطابق حکومت نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو 20 دن کے اندر رہا کر دیا جائے گا۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ آج 3-4 کیسز میں حاضری تھی، جناح ہاؤس کا ٹرائل شروع نہیں ہو رہا۔ پہلی بار تفتیشی نے کہا کہ ہم شامل تفتیش ہو گئے ہیں، ہم ضمانت نہیں 9 مئی کا ٹرائل شروع کروانے چاہتے ہیں۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ لوگوں کی زندگیاں خراب کر رہے ہیں، پراسیکیوٹر کے پاس شواہد موجود نہیں ہیں۔ ٹرائل میں عدالت کو بھی شرمندگی ہوگئی کہ لوگوں کے ڈیڑھ سال ضائع کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف 5 اکتوبر کے مقدمہ میں کردار کا پولیس کو پتا نہیں تھا۔ انصاف کے نظام کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’چار اکتوبر کو ہم جیل میں تھے، ان مقدمات میں بھی ہمیں نامزد کردیا گیا، انصاف کے نظام کا تماشہ ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ اچھا ہے سارے پاکستان نے دیکھ لیا کہ کیا ہو رہا ہے‘۔
علمیہ خان نے کہا کہ جب پشاور اور دیگر شہروں سے قافلے پہنچے تو حکومت پینک ہو گئی اور لوگوں کو گرفتار کر لیا۔
علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ملک کو فلاح کی راہ پر چلائیں اور ملک میں امن ہو، اس کیلئے جو بھی لائحہ عمل ہوگا اپنائیں گے، سیاسی عمل جاری رہتا ہے اس میں کوئی بھی بات حتمی نہیں ہوتی، اس میں رکاوٹ نہیں آنی چاہے۔
Comments are closed on this story.