انتہا پسند ہندوؤں نے خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کو بھی ڈھانے کی ٹھان لی
مودی سرکار نے ہندو ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کے بعد اب دیگر تاریخی مساجد اور درگاہوں کے ساتھ ساتھ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر نظر جمالی ہیں۔
ہندو انتہا پسند تنظیم کے ایک رہنما نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی جگہ پر شیو مندر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق درخواست میں ہندو سینا کے سربراہ وشنو گپتا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ درگاہ کے احاطے میں ایک مندر تھا جسے بحال کیا جائے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ درگاہ میں مندر ہونے اور اس کی تاریخی قدر و منزلت جاننے کے لیے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا سے جانچ پڑتال کروائی جائے۔
انتہا پسند ہندو رہنما نے عدالت سے استدعا کی کہ ہندو پجاریوں کو درگارہ میں اپنی عبادات کرنے کی بھی اجازت دی جائے۔
جس پر عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اجمیر درگاہ کمیٹی، وزارت اقلیتی امور اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو نوٹس جاری کردیے۔
اجمیر شریف درگاہ دیوان زین العابدین کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ وہ اس درخواست کے قانونی جواب کے ساتھ اچھی طرح سے تیار ہیں۔
دیوان زین العابدین نے کہا کہ درگاہ کی تاریخ 800 سال پرانی ہے اور اس وقت یہ کچا میدان تھا۔
حضرت غریب نواز کے وقت یہ جگہ کچی زمین ہوا کرتی تھی، قبر اس کے اندر تھی، وہ جگہ جہاں قبر ہے ظاہر ہے کچی ہوتی ہوگی، 150 سال تک یہ مقبرہ کچا پڑا رہا، کوئی ٹھوس تعمیر نہیں ہوئی، اس کے نیچے مندر کیسے آسکتا ہے۔
Comments are closed on this story.