Aaj Logo

شائع 16 ستمبر 2024 10:08pm

ایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے درمیان 720 ملین ڈالر کے دو منصوبوں پر دستخط

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور پاکستان کے درمیان 720 ملین ڈالر کے دو منصوبوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور اے ڈی بی کے صدر نے وفد کے ہمراہ 400 ملین امریکی ڈالرز کے سندھ ایمرجنسی ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن پراجیکٹ اور 320 ملین امریکی ڈالرز مالیت کے خیبرپختونخوا دیہی روڈز ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ کے حوالے سے مسودے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے یہ دونوں منصوبے سیلاب سے تباہ حال علاقوں کی بحالی سے متعلق ہیں۔

قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر جناب مساتسوگو آساکاوا نے آج ایک وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کی دیرینہ شراکت داری کو سراہتے ہوئے، وزیراعظم نے اے ڈی بی کے وفد کو حکومت پاکستان کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کے سلسلے سے آگاہ کیا جن میں ٹیکس محصولات میں اضافہ، توانائی کے شعبے کی مالی استحکام کو بہتر بنانا، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کے خلاف اقدامات ، غیر ہدف شدہ سبسڈی میں کمی اور سماجی تحفظ کو بڑھانا شامل ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان اصلاحات کی پیشرفت کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ان کے کامیاب نفاذ اور طویل مدتی اثرات کو یقینی بنایا جا سکے جو کہ پائیدار اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہیں۔

وزیراعظم نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے جواب میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے 1.5 بلین امریکی ڈالرز سے زیادہ کی فراخدلانہ مدد کو سراہا۔ انہوں نے زراعت سمیت ماحولیاتی لچک کے منصوبوں میں ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کی پاکستان کی گہری خواہش کا اظہار کیا۔

صدر ایشیائی ترقیاتی بینک نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ پاکستان کے ایک بانی ممبر کی حیثیت سے طویل وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے جامع اصلاحات کرنے پر حکومت پاکستان کی تعریف کی اور پاکستان کے لیے بینک کی مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی، ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں اور ادارہ جاتی اصلاحات میں تعاون بڑھانے کی بینک کے عزم کی تجدید کی۔

وفاقی وزراء برائے منصوبہ بندی و ترقی، سرمایہ کاری و نجکاری، اقتصادی امور، خزانہ و محصولات اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام بھی ملاقات میں شریک تھے۔

Read Comments