’کھانے کے بعد میٹھا ہوتو کیا ہی بات ہے‘ ، یہ جملہ طنمکین کے بعد میٹھے کے خواہش رکھنے والوں کو تکیہ کلام ہے۔
کسی زمانے میں دعوتوں اور شادی بیاہ کی تقریبات میں میٹھا اہم سمجھا جاتا تھا، لیکن اب تقریباً ہرگھر میں کھانے کے بعد میٹھا لازمی کھایا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق جہاں میٹھا انسانی صحت کیلئے ضروری ہے تو وہیں ضرورت سے زیادہ میٹھا امضر بھی ہے۔
میٹھا کھانے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے، ماہرین نے چند اہم وجوہات پرروشنی ڈالی ہے۔
اگرمتوازن غذا نہ لی جائے تو یہ آپ میں میٹھے کی خواہش کی وجہ بنتا ہے۔
ان غذاؤں کا بھرپور استعمال کریں جن میں کاربس، پروٹین، اور صحت مند فیٹس متوازن مقدار میں موجود ہوں۔
اگر بالکل میٹھا نہ کھایا جائے تو یہ میٹھے کی خواہش کو حیرت انگیز طور پر بڑھا دیتا ہے۔
ہر وقت اسٹریس میں رہنا بھوک کے ہارمون ’گھرلین‘ میں بھی اضافہ کرے گا، جس سے میٹھا کھانے کی خواہش میں اضافہ ہوگا۔
تیزابیت کو ان 6 مفید ٹوٹکوں سے فوری دور کیجئے
جگر کی صحت کو بہتر بنانے والے 8 مفید پھل
ناکافی نیند نہ صرف بھوک کو بڑھاتی ہے بلکہ میٹھے کی خواہش کو بھی بڑھاتی ہے۔
میٹھے کے خواہشمند افراد ان تجاویز پر عمل کرتے ہوئے میٹھے کی خواہش میں کمی لاسکتے ہیں۔
اگر آپ کو میٹھے کی خواہش ہوتی ہے تو آپ تازہ پھل، دہی یا شہد کو میٹھے کے طور پر لے سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ خشک میوہ جات یا ڈارک چاکلیٹ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی مناسب انتخاب ہیں۔
اس بات کو یقینی بنائیں کہ کھانا اچھی طرح سے متوازن ہو، جس میں پروٹین، صحت مند فیٹس اور کاربوہائیڈریٹس کی وافر مقدار شامل ہو۔
یہ خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم کرنے اور شدید میٹھے کی خواہش کے امکانات کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
دن بھر اپنے آپ کو ہائیڈریٹ رکھیں۔ کبھی کبھی میٹھے کی خواہش کو دور کرنے کے لیے صرف ایک گلاس پانی بھی کافی ہے۔
جب بھی میٹھے کی خواہش ہو تو آپ کسی سرگرمی میں خود کو مشغول کرلیں۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق چہل قدمی، موسیقی سننا یا اپنی پسندیدہ سرگرمی کرنا آپ کی اس خواہش کو دور کرسکتا ہے۔