وزن کم کرنے کے انجکشن لگوانے والے لوگوں میں خودکشی اور خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد یورپ کے ڈرگ ریگولیٹرز نے ان انجکشنز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایسے تین کیسز سامنے آںے کے بعد یوری یونین کی رکن ریاست آئس لینڈ نے یورپی میڈیسن ایجنسی کو مطلع کیا ہے۔
حفاظتی جائزہ میں ویگووی، سیکسینڈا اور اسی طرح کی ادویات، جیسے اوزیمپک پر غور کیا جائے گا، جو بھوک کو کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔
ان پروڈکٹس کے کتابچے میں پہلے سے ہی خودکشی کے خیالات کو ممکنہ ضمنی اثرات کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
لیکن خودکشی کر ہی لینا فی الحال ان دوائیوں پر درج نہیں ہے۔
یورپی میڈیکل ایسوسی ایشن (ای ایم اے) کی فارماکوویجیلنس رسک اسیسمنٹ کمیٹی (PRAC) جو جائزہ لے رہی ہے، وہ اس بات پر غور کرے گی کہ کیا دوائیوں کے اس وسیع زمرے میں دوسرے علاج، گلوکاگون نما پیپٹائڈ-1 (GLP-1) ریسیپٹر ایگونسٹس کو بھی تشخیص کی ضرورت ہے۔
لیکن ابتدائی طور پر، یہ صرف وزن کم کرنے والی دوائیوں کے استعمال کے خطرات کا جائزہ لے گی جس میں یا تو سیماگلوٹائیڈ یا لیراگلوٹائیڈ شامل ہیں۔
ای ایم اے کے اہلکار نے بتایا کہ کیس رپورٹس میں خودکشی کے خیالات کے دو واقعات شامل تھے، ایک سیکسینڈا کے استعمال کے بعد اور دوسرا اوزیمپک کے بعد۔ ایک سکسینڈا استعمال کرنے والے اضافی کیس نے خود کو چوٹ پہنچانے کے خیالات کی اطلاع دی۔
اکثر مشہور شخصیات کے حوالے سے سوشل میڈیا پوسٹس میں بڑی مقدار میں وزن کم کرنے کی خبروں وجہ سے اس قسم کے علاج کی بڑی مانگ ہوئی ہے۔
Saxenda اور Wegovy وزن میں کمی کے لیے منظور شدہ اور لائسنس یافتہ ادویات ہیں۔
Ozempic ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے ہے جو خون میں شوگر کے ساتھ ساتھ وزن کو بھی کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے، لیکن اس میں ویگووی جیسی دوائی سیماگلوٹائیڈ کی کم خوراک ہوتی ہے۔
بنا ذیابیطس والے کچھ لوگ وزن کم کرنے کے لیے بہت زیادہ تعداد میں یہ ادویات خرید رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر قلت کا سلسلہ جاری ہے۔