کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر ایک بار پھر حملہ، ڈرائیور اور فورسز کا اہلکار شہید، 15 افراد زخمی
لوئر کرم کے علاقے چارخیل اوچت بگن اور مندوری میں پاراچنار جانے والے گاڑیوں کی قافلے پر ایک بار پھر مسلح افراد نے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں ایک ڈرائیور اور فورسز کا ایک اہلکار شہید جبکہ 4 ڈرائیوروں اور ایک پولیس اہلکار سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے، مسلح افراد نے ٹرکوں کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کردیا جبکہ تاجر رہنماوں نے قافلے پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق لوئر کرم کے علاقے اوچت ڈاڈ قمر مندوری، چارخیل اور بگن میں فورسز کی نگرانی میں پاراچنار جانے والے اشیا خورد و نوش اور دیگر ٹرکوں پر مسلح افراد نے خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس میں ایک ڈرائیوراور فورسز کا ایک اہلکار شہید جبکہ 4 ڈرائیوروں اور ایک پولیس اہلکار سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے، جن میں حواتین اور بچے بھی شامل ہیں جوکہ فائرنگ کی زد میں اگئے۔
ڈرائیور گل فراز کے مطابق مساجد سے گاڑیاں لوٹنے اور مال غنیمت حاصل کرنے کے اعلانات شروع ہوئے تو ہر طرف سے لوگ نکلنا شروع ہوگئے اور ٹرکوں کو لوٹنے کے بعد نذر آتش کرنا شروع کردیا۔
حملے کے بعد علاقے میں 35 سے زائد گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ 9 گاڑیاں علیزئی بحفاظت پہنچ گئی ہیں اورتقریبآ 20 گاڑی واپس ٹل پہنچائی گئی ہیں جن میں زیادہ ترگاڑیوں سے سامان لوٹ لیا گیا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق جہاں جہاں قافلے پر آج حملے کیے گئے تھے، فورسز نے بڑی کارروائی شروع کردی۔
واقعے کے بعد ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹریڈ یونین کے رہنماؤں حاجی امداد علی ، حاجی صفیر ، وسیم حسین اور دیگر راہنماوں نے کہا تھا کہ گاڑیوں کو لوٹنا اور جلانا قابل افسوس ہے۔
تاجر رہنماوں کا کہنا ہے کہ ذمہ داران تماشائی بن رہے ہیں، بار بار ایک ہی علاقے میں قافلوں اور مسافروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حاجی امداد کا کہنا تھا کہ گن شپ ہیلی کاپٹر نے بھی فورسز اہلکاروں کے علاقے سے نکلنے کے بعد شیلنگ بند کردی، جس کے بعد حملہ اوروں نے آزادانہ طور پر گاڑیاں لوٹی اور جلائی گئیں۔
ڈرائیور اکرم خان نے میڈیا کو بتایا کہ مقامی ابادی سے ان پر فائرنگ کی جارہی تھی اور اب تک متعدد ڈرائیوروں کی لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
طوری بنگش قبائل کے رہنما جلال بنگش نے دہشت گردی کے اس واقعے کو امن کو سبوتاژ کرنے کی مذموم کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ سے محصور عوام کا مزید صبر کا امتحان نہ لیا جائے، اگر قافلے محفوظ نہیں تو ایسی سیکیورٹی انتظامات کا اللہ ہی حافظ ۔
جلال بنگش نے ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بناکر مستقل بنیادوں پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔
کرم میں قافلے پر حملے کا نوٹس، سخت کارروائی کا فیصلہ
خیبرپختونخوا کابینہ نے کرم میں قافلے پر حملے کا سخت نوٹس لے لیا۔ ترجمان حکومت بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں کرم کے مجموعی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے واقعے پر سخت ایکشن لینے کی ہدایت کی ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ شرپسند عناصر امن و امان خراب کرنے کی مذموم کوششیں کر رہے ہیں، لیکن حکومت کسی کو حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں قیامِ امن کے لیے گرینڈ جرگے کے ذریعے دونوں فریقین کے درمیان معاہدے طے پا چکے ہیں، جن پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کرم میں بنکرز کی مسماری کا عمل تیزی سے جاری ہے اور حکومت کسی بھی صورت علاقے میں امن کی بحالی کے اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتظامیہ اور حکومت کے ساتھ مل کر علاقے میں دیرپا امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
بنکرز کی مسماری کا عمل جاری
لوئر اور اپر کرم میں متحارب فریقین کے بنکرز مسمار کرنے کا عمل جاری ہے، اب تک 183 بنکرز مسمار کیے جا چکے ہیں۔
کرم کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق کوہاٹ امن معاہدے کے تحت ضلع میں بنکرز کی مسماری کا عمل جاری ہے لوئر کرم بالش خیل اور خار کلی میں اب تک فریقین کے 117 بنکرز مسمار کئے گئے جبکہ اپر کرم کے گاؤں پیواڑ اور تری منگل کے 66 بنکرز مسمار ہوچکے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کرم کے مطابق فریقین کے اب تک کل 183 بنکرز مسمار ہوچکے ہیں مزید بنکرز بھی جلد مسمار کیے جائیں گے۔
دوسری طرف پارا چنار سمیت اپر کرم کے لئے اشیائے خوردونوش کی مال بردار گاڑیوں کے جانے کا عمل بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔
ڈی سی ہنگو گوہر زمان کے مطابق تحصیل ٹل سے اشیائے خوردونوش کے 129 سے زائد مال بردار گاڑیوں کا قافلہ آج اپر کرم جانے کے لیے تیار ہے، جن میں 40 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم کی طرف روانہ کردیا گیا ہے۔
اس موقع پر قافلے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی کرم کے ضرورت مند عوام کو سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاہم اپر کرم جانے والے راستے تاحال عام ٹریفک کے لیے نہ کھولے جاسکے، جس کی وجہ سے اپر کرم کے عوام محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
Comments are closed on this story.