Aaj News

جمعرات, اپريل 03, 2025  
04 Shawwal 1446  

پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واپس افغانستان بھیجنا چاہتاہے،اعزاز چوہدری

اپ ڈیٹ 19 جنوری 2018 11:27am
فائل فوٹو فائل فوٹو

واشنگٹن:امریکامیں تعینات پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو واپس افغانستان بھیجنا چاہتا ہے ۔

جمعے کو پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے بی بی سی اردو کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں پاکستان پر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کے محفوظ ٹھکانے موجود نہیں ہیں اور اگر امریکاکو شک ہے اور ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ ہمیں بتائیں کیونکہ ہم بھی انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔

اعزاز چوہدری نے کہا کہ ہماری پوزیشن تو یہ ہے کہ ہم ان کو اپنے ملک سے بھیجنا چاہتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ طالبان اور حقانی ہمارے پاس رہیں، ہم تو ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ جائیں افغانستان میں جا کر رہیں اور اب وہ آپ کا ملک ہے اور وہاں کی مرکزی سیاسی دھارے میں جا کر شامل ہوں اور یہاں پر آپ کا رہنا قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اطلاعات کے مطابق ان کے پاس وہاں 43 فیصد علاقہ موجود ہے تو ان کو پاکستان میں رہنے کی کیوں ضرورت ہے، البتہ یہ ہے کہ مہاجرین میں ان کی رشتہ داریاں ہیں اور اسی وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی واپس افغانستان جائیں۔

اعزاز چوہدری نے افغان مہاجرین کے حوالے سے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اب مہاجرین سیکیورٹی کیلئےخطرہ اختیار کرتے جا رہے ہیں جس میں نوجوانوں کو وہاں سے بھرتی کیا جاتا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی واپس جائیں اور اس کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنایا جائے تاکہ برے لوگ نہ ِادھر سے اُدھر جائیں اور نہ ہی اُدھر سے ادھر آئیں۔

پاکستانی سفیر  نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرحد پر مکمل نگرانی نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ آتے ہیں، تو ہماری کوشش اور خواہش یہ ہی ہے کہ دونوں ملک مل کر کام کریں، اسی میں دونوں کا فائدہ ہے کیونکہ امریکہ کا ہدف افغانستان میں استحکام لانا ہے اور ہمارا بھی یہ ہی ہدف ہے۔

امریکا کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے اور فوجی تعاون ختم ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے ہیں جس میں ورکنگ لیول پر انٹیلی جنس شیئرنگ بھی شامل ہے۔