|
مظفرآباد: موسلادھار بارش، تئیس افراد ہلاک
مظفرآباد: مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر بھر میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے،مسافر وین نالے میں بہہ جانے لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات میں تئیس افراد ہلاک ہوگئے، طغیانی کے پیش نظر دریا کے قریب جانے اور لکڑی پکڑنے پر دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت پابندی عائد کردی گئی۔ وادی نیلم میں سیلاب سے منی ہائیڈل پاور اسٹیشن اور متعدد مکانات تباہ ہو گئے۔ دریائے نیلم کے کنارے آباد سات سو خاندانوں کو محفظ مقامات پر منتقل کردیا گیا، آبی ریلے سے شہرکا قدیمی واک وے ڈوب گیا۔
آزاد کشمیر میں چار روز سے جاری بارشوں کے باعث جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ ہو رہی ہے جبکہ دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے، راولا کوٹ کے علاقے گوئی نالہ میں مسافر سے بھری ویگن نالے میں بہہ گئی،مقامی لوگوں کے مطابق ایک شخص کی لاش اور دس زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے جبکہ چھ افراد لاپتہ افراد ہیں۔ مظفرآباد کے قریب ٹالی منڈی کے مقام پر دو سگے بھائی دریا سے لکڑیاں پکڑتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہو گئے ، دو افراد کھوڑی کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آکر مارے گئے۔
وادی نیلم میں سیلابی ریلے نے منی ہائیڈل پاور اسٹیشن اور متعدد مکانات تباہ کر دیئے ،، لیپہ اور تھالہ ماکڑی کے علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ سے تین مکان تباہ ہو گئے ہیں۔ لینڈ سلائیڈنگ اور نالوں میں طغیانی کے باعث شاہراہ نیلم سمیت کئی اہم شاہراہیں بند ہونے سے لوگوں کو آمدو رفت میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق نے اپنے انتخاب کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ سیلاب کے باعث اکتیس افراد زخمی اور چھ لاپتہ ہیں۔ بارش اور سیلاب کے باعث وادی نیلم کا دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ دریائے نیلم ، جہلم اور کونار میں طغیانی سے پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جارہاہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے متاثرہ علاقوں کے لیے حکومت پاکستان اور عالمی اداروں سے امداد کی اپیل کی ہے۔ |